ٹڈی دل: پاکستان پہنچنے والی ٹڈیاں اتنی بے قابو کیسے ہوئیں؟

پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے این ڈی ایم اے کے مطابق ملک بھر کے 51 اضلاع اس وقت ٹڈی دل کے حملوں کی لپیٹ میں ہیں۔

ان میں بلوچستان کے 33، پنجاب کے تین، سندھ کے چھ اور صوبہ خیبر پختونخوا کے نو اضلاع شامل ہیں۔

صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر ڈیرہ اسماعیل خان میں تعینات ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت ڈاکٹر صلاح الدین بٹانی کے مطابق یہ ٹڈیوں کا حالیہ تاریخ میں بدترین حملہ ہے، اس سے قبل سنہ 2003 میں بھی پاکستان پر ٹڈی دل حملہ آور ہوئے تھے مگر خوش قسمتی سے صوبہ خیبر پختونخوا اُس وقت ان کے حملوں سے محفوظ رہا تھا۔

انھوں نے بتایا کہ صوبہ خیبر پختونخوا میں ٹڈی دل کا آخری بڑا حملہ سنہ 1993 میں ہوا تھا جبکہ اس سے قبل سنہ 1963 اور سنہ 1964 میں ہونے والے حملے شدید نوعیت کے تھے۔

این ڈی ایم اے کے مطابق دو جون تک پورے ملک میں پانچ لاکھ دو ہزار ہیکٹر سے زائد رقبے پر سپرے کیا جا چکا ہے۔

زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد اشرف کے مطابق ٹڈی ایک صحرائی کیڑا ہے جو چند صدیوں پہلے تک تو تقریباً پورے دنیا کے صحراؤں میں پایا جاتا تھا مگر اب ان کی آمجگاہیں صرف ایشیا اور افریقہ کے صحراؤں تک محدود ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ٹڈی بنیادی طور پر ’گراس ہاپر‘ کے خاندان سے تعلق رکھتی ہے۔ گراس ہاپر اڑ نہیں سکتا اس کے پر اور ٹانگیں چھوٹی ہوتی ہیں جبکہ ٹڈی کے پر اور ٹانگیں بڑی ہوتی ہیں جس وجہ سے یہ اڑ سکتا ہے۔

جب یہ کیڑا چھوٹا ہوتا ہے تو یہ گراس ہاپر (گھاس کا ٹڈا) کی مانند ہوتا ہے مگر بڑا ہونے پر یہ ٹڈی کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ ٹڈی کی پسندیدہ جگہیں وہ ہیں جہاں ریت، نمی اور پانی دستیاب ہو۔ مادہ ٹڈی ریت میں انڈے دیتی ہے اور یہ ایک وقت میں سو کے لگ بھگ انڈے دے سکتی ہے۔

اگر مادہ ٹڈی کو موافق موسم دستیاب ہو جائے تو یہ کئی سو تک انڈے بھی دے سکتی ہے جس سے اس کی نسل تیزی سے بڑھتی ہے۔

پروفیسر ڈاکٹر محمد اشرف کے مطابق ایک ٹڈی کی طبعی عمر تین سے پانچ ماہ کے درمیان ہوتی ہے۔ ٹڈیاں عموماً جھنڈ کی صورت میں پرواز کرتی ہیں اور جہاں پر سبزہ نظر آئے یہ جھنڈ اس کو اپنی خوراک بنا لیتا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ پاکستان میں صوبہ پنجاب، بلوچستان اور سندھ کے صحراؤں میں اس کی آمجگاہیں موجود ہیں۔

انھوں نے کہا کہ صحرائے چولستان میں پاکستان اور انڈیا کی سرحد کے اطراف اس کی آمجگاہیں ہیں جبکہ یہ زیادہ بڑی تعداد میں بلوچستان میں پائی جاتی ہے۔

پلانٹ پروڈکشن بیورو آف پاکستان کے ڈائریکٹر ڈاکٹر فلک ناز کے مطابق ٹڈیوں کے دو بریڈنگ سیزن (افزائش نسل) موسم بہار اور موسم گرما ہوتے ہیں۔ پاکستان میں بہار کا موسم فروری سے شروع ہوتا ہے اور جون تک چلتا ہے اور اس دوران یہ ٹڈیاں ایران کی سرحد کے ساتھ ساتھ بلوچستان کے صحرائی علاقوں میں موجود رہتی ہیں۔

اس وقت پاکستان میں موجود ٹڈی دل وہ ہیں جن کی افزائش نسل پاکستان کے علاوہ ایران میں ہوئی ہے۔ پاکستان سے یہ ٹڈیاں انڈیا کے علاقوں میں بھی حملہ آور ہوئی ہیں۔

ڈاکٹر فلک ناز کے مطابق پاکستان میں موجود ٹڈی دل وہ ہیں جن کی افزائش نسل موسم بہار میں ہوئی ہے جبکہ آنے والے دنوں میں یہ سندھ اور پنجاب کے مزید علاقوں میں حملہ آور ہو سکتے ہیں۔

ڈاکٹر فلک ناز کا کہنا ہے کہ جب ٹڈیوں کا دل بڑا ہوتا ہے تو اُن کا رویہ تبدیل ہو جاتا ہے اور یہ زیادہ مشتعل نظر آتا ہے۔ اس دوران ٹڈیاں اپنا رنگ بھی تبدیل کرتی ہیں اور اپنے جھنڈ میں اپنے لیڈر کا انتخاب خود کرتی ہیں۔ لیڈر کو ٹڈی دل کی ملکہ کہا جاتا ہے۔

ڈاکٹر فلک ناز کے مطابق ٹڈی دل پر کوئی ایک ملک قابو نہیں پا سکتا۔ بین الاقوامی سطح پر اس کی نگرانی کا نظام موجود ہے جس میں تقریبا تمام ممالک اپنے اپنے ملک میں اس کی افزائش اور دیگر تفصیلات کی معلومات ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کرتے رہتے ہیں جس کے بعد اس سے بچاؤ کے اقدامات مشترکہ طور پر اٹھائے جاتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ٹڈی دل کے حالیہ حملوں کے تانے بانے سنہ 2018 میں سعودی عرب اور مشرقی وسطی میں آنے والے سمندری طوفان اور صحراؤں میں ہونے والی غیر متوقع بارشوں سے جا ملتے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ اُس وقت مشرقی وسطی اور سعودی عرب کے صحراؤں میں ہونے والی بارشوں سے ٹڈیوں کی بہت زیادہ افزائش نسل ہوئی جس کو مانیٹر نہیں کیا جا سکا اور جب اس کو مانیٹر نہیں کیا گیا تو پھر اس کے تدارک کے اقدمات بھی نہیں ہوئے۔

ان کے مطابق اس کے بڑے حملے جنگ زدہ ملک یمن میں ہوئے اور اس کے بعد یہ وہاں سے ہوتے ہوئے ایران، پاکستان، انڈیا اور ایشیا کے دیگ ممالک تک پہنچ گئے۔

ان کا کہنا تھا بہت سے ممالک میں سمندری طوفانوں کی پیش گوئیاں ہیں جس کے بعد ساحلی علاقوں اور صحراؤں میں غیر متوقع بارشیں ہوں گی اور یہ موسم ٹڈی دل کے لیے انتہائی سازگار ماحول ہو گا۔

ڈاکٹر فلک ناز کے مطابق پاکستان میں بھی ٹڈی دل کے بڑھتے حملوں کی وجوہات عالمی ہیں یعنی ان کو بروقت مانیٹر کر کے ان کا تدارک نہیں کیا گیا ہے اور ٹڈیوں کے بڑے جھنڈ مختلف ممالک کا سفر طے کر کے پاکستان پہنچ گئے۔

جس طرح مشرقی وسطی کے صحراؤں کی طرح پاکستان کے صحراؤں میں بھی غیر متوقع بارشیں ہوئیں ہیں اور ٹڈیوں کو افزئش نسل کا بھرپور موقع ملا۔

پروفیسر ڈاکٹر محمد اشرف کے مطابق ٹڈی درحقیقت ہمارے ملک میں پائے جانے والے پرندوں مثلاً تیتر، بیٹر، تلور وغیرہ کی مرغوب غذا ہے۔ یہ پرندے اس کا بڑے شوق سے شکار کرتے ہیں۔ مگر اب ان پرندوں کی تعداد ملک میں انتہائی کم ہو گئی ہے۔

ڈاکٹر صلاح الدین بٹانی کا کہنا تھا کہ صحراؤں میں موجود سانپوں سمیت دیگر حشرت الارض بھی ان ٹڈیوں اور ان کے انڈوں کو بطور خوراک استعمال کرتے ہیں۔ اب ان کی کمی بھی ان کے اضافے کی ایک وجہ ہو سکتی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ اب جب کہ مختلف وجوہات کی بنا پر ٹڈیوں کی افزائش نسل بہت زیادہ ہوئی ہے تو ان کی اپنی آمجگاہوں میں ان کے لیے خوراک اور انڈے دینے کی جگہیں کم پڑ گئی ہیں۔ جس کے بعد ٹڈیاں خوراک اور انڈے دینے کے لیے مناسب مقام کی تلاش میں غول در غول باہر نکلتی ہیں۔

ڈاکٹر فلک ناز کے مطابق ٹڈی دل سبزہ اور نمی والے مقام کو اپنی افزائش نسل کے لیے منتخب کرتا ہے اور جب صحرا میں ان کو سبزہ او نمی نہ ملے تو پھر یہ سبزہ اور نمی والے علاقوں کا رخ کرتے ہیں۔

ڈاکٹر فلک ناز کا کہنا تھا کہ موجودہ موسمیاتی تبدیلی کے دور میں ان کی تعداد کو کنٹرول کرنا عالمی طور پر ایک بڑا چیلنج ثابت ہو سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment