بلوچستان کے ضلع بارکھان میں ٹڈی دل کا سیب کی فصل پر حملہ

صوبہ بلوچستان کے ضلع بارکھان میں ٹڈی دل نے ایک بار پھر سیب کے باغات پر حملہ کر دیا۔

بارشوں سے خشک سالی کے اثرات کم ہونے پر زمین دار پر امید تھے کہ انہیں اپنی محنت کا پھل ملے گا لیکن ٹڈی دل کے حملوں نے سب کچھ تباہ کر دیا ہے۔سر سبز بلوچستان میں طویل خشک سالی کے بعد اچھی بارشوں سے ہر طرف سبزہ، باغات اور فصلیں لہرا رہی تھیں۔

سیب کے باغات پر ٹڈی دل کے حملے میں فصل کو شدید نقصان پہنچا ہے جبکہ کسانوں نے محکمہ زراعت سے باغات پر اسپرے کرنے کا مطالبہ کر دیا۔

گزشتہ ماہ بھی بارکھان پر ٹڈی دل نے سیب کے باغات پر حملہ کر دیا تھا جس سے فصلوں کو شدید نقصان پہنچا تھا اور مقامی افراد اپنی مدد آپ کے تحت ٹڈی دل کو بھگانے میں مصروف ہے۔

بعد ازاں محکمہ زراعت کی جانب سے بارکھان کے مختلف علاقوں میں اسپرے بھی کیا گی تاہم زرعی ماہرین نے صوبائی حکومت سے بارکھان کے لیے جدید مشنری کا مطالبہ کیا تھا۔

اس سے قبل قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے(این ڈی ایم اے) نے بتایا کہ ٹڈی دل پاکستان کے 52 اضلاع میں موجود ہے اور اس کے تدارک کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

این ڈی ایم کے مطابق بلوچسستان میں 31، خیبر پختونخوا 10، پنجاب 4 اور سندھ میں 7 اضلاع ٹڈی دل سے متاثر ہوئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ 1128 ٹیموں لوکسٹ کنڑول آپریشن میں حصہ لے رہی ہیں اور گزشتہ 24 گھنٹوں میں 3 لاکھ 50 ہزار ہیکٹر رقبہ کا سروے ہوا۔

رپورٹ کے مطابق4900 ہیکٹر رقبہ کا ٹڈی مار ادویات سے ٹریٹمنٹ کیا گیا ہے۔ بلوچسستان میں 3200 ہیکٹر رقبہ پر اسپرے کیا گیا ہے اور پنجاب میں 100 ہیکٹر پر اسپرے کیا گیا۔

ترجمان این ڈی ایم اے کے مطابق خیبرپختونخوا میں ایک ہزار ہیکٹر رقبہ کی ٹریٹمنٹ ہوئی ہے جب کہ سندھ میں گذشتہ روز 600 ہیکٹر رقبہ ٹریٹمنٹ کیا گیا۔ این ڈی ایم اے نے بتایا کہ اب تک پورے ملک میں 4لاکھ 97 ہزار ہیکٹر رقبہ پر سپرے کیا جا چکا ہے۔

پاکستان میں ٹڈی دل کے مسلسل حملوں کی وجہ سے کپاس، مرچ کی فصلوں اور آم کے باغات کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ سندھ کے ضلع نواب شاہ میں ٹڈی دَل کے حملے سے کپاس، گنا، جوار اور پیاز کی فصل کو نقصان ہوا

متعلقہ خبریں

Leave a Comment