فیض اللہ کاموکا کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی خزانہ کا اجلاس

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی خزانہ کا اجلاس فیض اللہ کاموکا کی زیر صدارت اسلام آباد میں ہوا۔

 

اجلاس میں ممبران لینڈ آپریشنزمحمد اشفاق نے کمیٹی کوبتایا کہ گزشتہ مالی سال کے دوران مجموعی طور پر 174 ارب 80 کروڑ روپے کا ریفنڈ دیا گیا جبکہ اس کے علاوہ وزیراعظم پیکیج کے تحت ایک سو ارب روپے کی مذید ریفنڈ جاری کیےگئےہیں۔

 

سید نوید قمر کا کہنا تھا کہ کمیٹی کویہ بتایا جائے کہ ٹیکس ریفنڈ کا اصل حجم کیا ہےکتنےعرصےسے ریفنڈ روکےہوئے ہیں ریفنڈ دینےکا طریقہ کارکیا ہےممبر ان لینڈ آپریشنز کا کہنا تھا کہ وہ یہ معلومات ساتھ نہیں لائے۔

 

حنا ربانی کھرکا کہنا تھا کہ ایف بی آر حکام کمیٹی کی طرف سے پوچھے گئے سوالات کا درست جواب دیں، ٹیکس ریفنڈ کا حجم 600 ارب روپے تک ہے۔

 

عائشہ غوث پاشا نے کہا کہ ایف بی آر پر الزام لگ رہا ہےکہ پیسے لےکرامیرافراد کو جلد اور زیادہ ٹیکس ریفنڈ دیا گیا چیئرمین کمیٹی فیض اللہ کاموکا نے بریفنگ پرعدم اعتماد کرتےہوئے کہا کہ ایف بی آرکو کل تک کی مہلت دی جاتی ہے کہ وہ کمیٹی کو ٹیکس ریفنڈ پرتفصیلی بریفنگ فراہم کرے۔

 

کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے صدر زرعی ترقیاتی بینک شہباز جمیل کا کہنا تھا کہ بینک کوفعال کرنے کیلئے حکومت نےشوکت ترین، زبیرسومرو اورعاطف بخاری پرمشتمل کمیٹی قائم کی ہے جو اصلاحات پرتجاویزدے رہی ہے۔

 

احسن اقبال کا کہنا تھا کہ کورونا اورٹڈی دل کے دوران بینک میں اصلاحات کا فیصلہ درست نہیں اس وقت زراعت کی بحالی کیلئےنرم شرائط پرقرض کی سہولت چاہیے جبکہ بینک پچھلے قرض کی وصولی کیلئےسخت اقدامات لے رہا ہے۔

 

حنا ربانی کھرکا کہنا تھا کہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی خزانہ نےگزشتہ سال نومبرمیں بینک میں بورڈ آف ڈائریکٹرزکی تعیناتی کیلئےدوہفتے کی مہلت دی تھی مگر سات ماہ گزرنے کےباوجود بورڈ کی تعیناتی نہیں کی گئی چیئرمین کمیٹی نے بینک کا بورڈ نہ لگانے پرجواب کیلئےسیکریٹری خزانہ کوکل اجلاس میں طلب کرلیا کمیٹی نے مہنگی دالیں خریدنے پر چیئرمین اور ایم ڈی یوٹیلیٹی اسٹور کوبھی اجلاس میں طلب کرنے کا فیصلہ کرلیا

متعلقہ اشاعت

Leave a Comment