وزیر اعلیٰ سندھ کی سندھ روشن کرپشن کیس میں پیشی

سندھ روشن کرپشن کیس میں وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی نیب آفس میں پیشی، سوالات کے جوابات دیئے۔

 

نیب کی تین رکنی تحقیقاتی ٹیم نے سندھ روشن کرپشن کیس میں مراد علی شاہ سے تقریبا ایک گھنٹہ سے زائد پوچھ گچھ کی، وزیراعلیٰ نے انیس سوالات کے جوابات جمع کروائے۔

 

اس موقع پر میڈیا سے گفتگو میں مراد علی شاہ نے کہا کہ عزیر بلوچ کو رینجرز نے گرفتار کیا تھا اور 90 روز ریمانڈ پر رکھا، جے آئی ٹی ایک ہوتی ہے، جس کے سربراہ نے رپورٹ محکمہ داخلہ کو جمع کرائی، 7 دستخط کیساتھ اصل جے آئی ٹی رپورٹ آج بھی محکمہ داخلہ کے پاس ہے۔

 

وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ اصل جے آئی ٹی رپورٹ آج بھی محکمہ داخلہ کے پاس ہے، علی زیدی کو کوئی گیٹ پر چیزیں دے جاتا ہے جو وہ لے آتے ہیں،لگتا ہے ملزمان کو فائدہ پہچانے کیلئے جے آئی ٹی کو متنازعہ بنایا جا رہا ہے۔

 

وزیراعلیٰ سندھ نے علی زیدی کے رویہ کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ لگتا ہے ملزمان کو فائدہ پہچانے کیلئے جے آئی ٹی کو متنازعہ بنایا جا رہا ہے، علی زیدی کی جے آئی ٹی سامنے لانے پر ہم پر سیاسی دباؤ آیا، اب یہ بتاتے ہیں کہ 3 جےآئی ٹیز ہیں، وفاقی حکومت سے کچھ بھی توقع کی جاسکتی ہے، مراد علی شاہ نے مزید کہا علی زیدی جو بات کرتے ہیں اس پر بھروسہ مشکل ہے۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment