میری ذاتی معلومات پبلک نہ کی جائیں:اہلیہ جسٹس قاضی فائزعیسیٰ

جسٹس قاضی فائر عیسی کی اہلیہ نے ایف بی آر کے بارے میں اپنا بیان جاری کر دیا

 

جسٹس قاضی فائز عیسی کی اہلیہ کا کہنا ہے کہ میرے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے،مجھے اب بھی حراساں کیا جا رہا ہے، میرے بارے میں کہا گیا کہ میں نے ایف بی آر کے نوٹسز وصول نہیں کیے۔

 

سرینہ عیسیٰ کا کہنا ہے کہ میرے ملازمین اور ہمسایوں کے سامنے مجھے بے عزت کیا گیا، میرے بارے میں کہا گیا کہ ایف بی آر میں لاٹھی پکڑ کر بہانہ بنا کر چل رہی تھی، میں اپنی ٹوٹی ہوئی ٹانگ کا ایکسرے پیش کررہی ہوں، ایسی حرکات کی وجہ سے مجھے دلی صدمہ ہوا ہے، میڈیا میں وہ باتیں کی گئیں جو میں نے نہیں کیں، میرے پاس ان باتوں کا جواب دینے کے علاوہ کوئی اور آپشن نہیں۔

 

سرینہ عیسیٰ کا مزید کہنا تھا کہ ایف بی آر میں جمع کرایا گیا چھ صفحات پر مشتمل ٹیکس ریکارڈ جاری کررہی ہوں، میری ذاتی معلومات پبلک نہ کی جائیں، سچ دکھانے کے لیے میرے جواب کا تناظر پبلک کیا جائے، 9جولائی کو میں نے ایف بی آر میں اپنا بیان جمع کرا دیا ہے۔

 

سرینہ عیسیٰ نے وزیر اعظم کے بارے میں کہا کہ عمران خان ‏مجھ سےکم ٹیکس دیتے ہیں، کم ٹیکس دیکر عمران خان نے کیسے 300 کنال کی جائیداد رکھی ہوئی ہے، ‏وزیر اعظم اور انکے ساتھی میرے شوہر کیخلاف میڈیا پر جھوٹ پھیلا رہے ہیں،‏کیا ایف بی آر عمران خان سے.پوچھ سکتا ہےکہ وہ مجھ سےکم ٹیکس کیوں دیتے ہیں،

 

سرینہ عیسیٰ نے مزید کہا کہ عمران خان اور اسکے ساتھی ایک سال سے جھوٹ بول رہے کہ لندن کی جائیدادیں میرے شوہر کی ہیں، عمران خان اور انکے ساتھیوں نے کہا کہ انکو معلومات عبدالوحید ڈوگر نے فراہم کیں،عبدالوحید ڈوگر نے معلومات شہزاد اکبر تک پہنچائیں، عمران خان اور انکے ساتھیوں نے ان جائیدادوں بارے مجھ سے نہیں پوچھا، سپریم کورٹ کے ججز میرے جواب سے مطمئن تھے۔

 

سرینہ عیسیٰ کا مزید کہنا تھا کہ کیا ایف بی آر عمران خان,شہزاد اکبر,فروغ نسیم اور انور منصور سے پوچھ سکتا ہے کہ میرا سابقہ ٹیکس ریکارڈ کیسے حاصل کیا،ایف بی آر مزکورہ تمام افراد سے بھی پوچھے کہ وہ کب سے ٹیکس ادا کر رہے ہیں، میرا سابقہ ٹیکس ریکارڈ کس طرح پبلک کیا گیا، کیا ایف بی آر عمران خان,شہزاد اکبر,فروغ نسیم اور انور منصور سے پوچھ سکتا ہے کہ میرا سابقہ ٹیکس ریکارڈ کیسے حاصل کیا، ایف بی آر مزکورہ تمام افراد سے بھی پوچھے کہ وہ کب سے ٹیکس ادا کر رہے ہیں، میرا سابقہ ٹیکس ریکارڈ کس طرح پبلک کیا گیا، وزیر اعظم,شہزاد اکبر,فروغ نسیم اور انور منصور کو ایف بی آر کے سوالات پر کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے، ایف بی آر نے جیسے میرے ساتھ سلوک کیا مزکورہ افراد کیساتھ بھی وہی سلوک ہونا چاہیے، امید کرتی ہوں کہ یہ تمام افراد اپنے بیوی بچوں کا ٹیکس ریکارڈ اور جائیداد کی تفصیل بھی دیں گے، ہمیں کہا گیا ہے کہ یہ ریاست مدینہ ہے۔

 

یاد رہے جسٹس فائز عیسی قاضی کی اہلیہ نے 9 جولائی کو ایف بی آر میں اپنی جائیدادوں کی تفصیلات اور ٹیکس ریٹرنز جمع کروا دی تھیں۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment