جھگیوں میں بھی انسان ہیں

بہت دنوں سے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا لکھوں شاید موسم کا اثر تھا گرمی ہوئی بیزاری بھی بڑھی پھر شدید گرمی کے ساتھ شدید بیزاری اور کوفت بھی بڑھنے لگی کچھ اچھا نہیں لگ رہا تھا کچھ لکھنے کا من بھی نہیں تھا پھر اچانک موسم کے انداز بدل ہی گئے مون سون بارشوں کا آغاز ہو گیا ابھی گزشتہ روز کی 11 جولائی کی ہی بات ہے کہ ایک دم آسمان پر سرمئی بادل چھاگئے بہت سہانا موسم تھا رومینٹک موسم ٹھنڈی ہوا چھٹی بھی تھی تو موسم کا مزہ خوب گنگنا کے لیا لیکن گنگاتے خیال آیا کہ کل تو پھر کام کرنا ہے کیا کیا جائے اور تب موسم کو الگ نظر سے دیکھا پھر کیا تھا بس ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بالکل اس خالی لائن کی طرح میں بھی ایک دم چپ ہو گئی کیونکہ خیال ہی ایسا تھا

 

زیادہ تمہید نہیں باندھتی خیال یہ آیا کہ اس موسلا دھار بارش میں ایک طبقہ ایسا بھی ہے جسے کے پاس دو وقت کی روٹی مشکل ہوتی ہے ، پکی اینٹوں کی چھتوں سے محروم میں بات کر رہی ہوں جھگی والوں کی کئی ایسے افراد کی بھی جنکے پاس جھگی بھی نہیں ہوتی بس کوئی سڑک کا کنارا یا جہاں جگہ ملے بس سو جاتے ہیں وقت گزارتے ہیں،خیر خیال آتے ہی یہ ضرور ٹھان لیا تھا کہ صبح ہوتے ہی اس پر رپورٹ ضرور بناوَنگی اپنے حصے کا کام کرتے ہوئے کم از کم حکومت وقت تک انکے مسائل بھی پہنچاوَنگی ضرور، شاید اس لائن کو پڑھتے ہوئے بہت سے افراد یہ کہیں گے کہ یہ مافیا ہے ، یہ خود ذمہ دار ہیں ، چلیں ہو سکتا ہے، ایسا ہے بھی؟ تو کیا حکمرانوں کی یا حکومت وقت کی ذمہ داری نہیں کرپشن کے علاوہ اس مافیا کو بھی پکڑے ، ریاست تو امیر غریب سب کی ہے ، حق تو سب کا ہے، باقی مافیا۔۔۔۔۔۔۔ ؟آجکل تو ہر کوئی اپنی جگہ مافیا ہی بنا بیٹھا ہے شاید اور کئی قسموں کا مافیا جو عوام کے ذہنو سے کھیل رہا ہے ، لیکن بات اتنی ہی ہے کہ غربت کسی کا شوق نہیں ہوتی

 

بہرحال میں صبح ہوتے ہی اپنی ٹیم کے ساتھ جھگیاں ڈھونڈتے ایک جگہ پہنچ ہی گئی اسلام آباد کے آس پاس کے خوبصورت صاف علاقوں کے پاس ہی، جھگی والے کیمرا دیکھ کر پہلے تو پریشان ہوئے کہ شاید انکی جھگیاں کوئی اکھاڑنے آیا ہے انکا گھر کوئی ان سے چھیننے آیا ہے، شاید اب انکے ساتھ برا ہونے والا ہے کئی جھگی والوں نے ان احساسات کا اظہار بھی کیا اور پوچھا بھی کہ ہم کیوں آئے ہیں تو میں نے بتایا کہ ہم لوگ نیوز چینل سے ہیں رپورٹ بنانے آئے ہیں یہ جاننے آئے ہیں کہ موسم کی سختیوں کو کیسے جھیل رہے ہیں ، موسم سخت ہے بارشیں شدید ہونگی تو کیا کریں گے، اتنے میں سامنے جھگی پر نظر پڑی تو وہ ایک دن پہلے کی 11 جولائی کی بارش کی نظر ہو چکی تھی اکھڑ چکی تھی جسکی دوبارہ تعمیر کی جا رہی تھی ، بڑے بڑے لکڑوں کی مدد سے کھڑی جھگی کے لکڑے بھی اتنے پرانے تھے کہ شاید موسم کی سختی چند دن ہی برداشت کر سکیں، جھگی کے بزرگ اپنی اس چھت کو بچانے کے لیے لکڑے ترتیب دے رہے تھے تو خاتون کڑی دھوپ میں بیٹھی جھگی کی چھت یعنی چادر کو ہاتھ سے سینے میں مصروف تھی ،، دن چڑھتا جا رہا تھا دھوپ تیز ہو رہی تھی گرمی بڑھ رہی تھی کچھ دیر کے لیے آئے بادل بھی آسمان سے غائب تھے موسم اپنی سختی دکھانے کو بے تاب تھا لیکن وہ خاتون سب سے بے فکر ہو کے کڑی دھوپ میں کام میں مصروف تھی کہ اس کے پاس اور کوئی چارہ نہیں تھا،وہ تو بس جلد از جلد اپنی چھت مکمل کرنا چاہتی تھی آس پاس کی دیگر تمام جھگیوں میں بھی ہر کوئی کام میں مصروف تھا کسی کو کھانا بنانے کی فکر تھی تو کسی کو پانی کی فکر ،پانی بھرنے کے لیے بھی خواتین ہی اسٹیل کے مٹکے تھامے میلوں کا سفر طے کرتیں اور پانی بھرتی ہیں،،، ساری صورتحال میں دیکھ ہی رہی تھی کہ بزرگ بات کرنے کے لیے آگے بڑھے اور کہا

"بیٹا سردی ہو گرمی ہو موسم کی سختیاں برداشت کرتے انہی جھگیوں میں زندگی گزارتے ہیں”

ان بزرگ کی آواز میں درد تھا، آنکھوں میں حکومت وقت سے کئی شکوے تھے، اور سب سے بڑھ کر دل میں نا امیدی کے ڈیرے تھے

 

مزید کہنے لگے کہ وزیراعظم عمران خان نے تو اپنی مرضی کے لوگوں کو گھر دے دیئے ہمیں گھر بھی نہ دیں اگر نہیں دینے تو،بس ٹینٹ دے دیں کہ بارشوں سے ان چادر کی چھتوں کی کچھ تو حفاظت ہو،اپنے آشیانے سے سب کو پیار پوتا ہے پرندوں کو بھی پیار ہوتا ہے کوئی نہیں چاہتا کہ کسی سے اسکا گھر چھین لیا جائے یہاں جھگی والے بھی ہر وقت اپنے آشیانے کی فکر میں گم ہیں، خواب تو انکے بھی ہیں غربت کو کون خوشی سے گلے لگاتا ہے، انکے بچے بھی کچھ بننے کی بڑا آدمی بننے کی خواہش رکھتے ہیں، مجھے یاد ہے وزیر اعظم نے ایک بار اپنی تقریر میں کہا کہ ہمیں انسان بنانے ہیں نہیں وزیر اعظم صاحب اللہ کا خوف کریں،انسان اللہ نے بنا دیئے آپ بس اس ریاست کو جسے آپ ریاست مدینہ کہتے ہیں اس میں غریب کو حق کو بھی پہچانیں، معاشرہ انسانوں سے بھرا پڑا ہے بس بڑا آمی بننے کے لیے وسائل چاہیئں جو سب کے پاس نہیں، جھگیوں میں موجود ایک بچے نے خواہش ظاہر کی خواب بتایا کہ پولیس والا بننا چاہتا ہے ایک پل کو میں سوچ میں پڑ گئی کہ شاید اس بچے کی نظر میں یہی ہے کہ پولیس والا بن کر ہی فیملی کو تحفظ دے سکتا ہے،،ہر طرف غربت سے مرجھائے چہروں پر نا امیدی بھی صاف نظر آ رہی تھی ، جھگیوں میں موجود بچیاں عدم تحفظ کا شکار نظر آ رہی تھیں، جھگیوں کے آس پاس ہر طرف ننگ دھڑنگ بچے جو تپتی زمین پر ننگے پاوَں ادھر ادھر بھاگتے کہ جیسے زندگی انکے لیے بس یہی ہے، چھوٹی بچیاں جھگیوں میں منہ چھپائے گڈے گڈی کا کھیل تو کھیل رہی تھی لیکن انکے آس پاس اطراف میں بڑی گاڑیوں بڑے محلوں کا بڑی بڑی مارکیٹوں کا وحشت زدہ حوس زدہ ماحول بھی ہے ،، تعلیم و تربیت سے محروم ان بچیوں کو دیکھ کر مجھے قصور کی اس بچی کا خیال بھی آیا جو ایک درندے کی حوس کی بھینٹ چڑھی ، اس واقعے سے ہر طرف سیاسی کھیل عروج پر پہنچے تقریروں کی حد تک،لیکن ان بچیوں کا کیا ، آج بھی معاشرے میں سینکڑوں زینب گھوم رہی ہیں انکا کیا؟ چھوٹے بچوں کے ساتھ اتنے اندوہناک ظلم ہوتے ہیں کہ اللہ کی پناہ ،،کوئی کیوں نہیں بولتا کوئی کیوں کچھ نہیں کرتا کیا ذمہ داری سب کی بس اتنی سی ہے کہ کہا جائے یہ تو مافیا ہے انکا تو یہی کام ہے۔

ایک قصہ یاد آ رہا ہے ، میں بچیوں کے عالمی دن پر رپورٹ بنانے نکلی غریب متوسط طبقے کی بچیوں پر،، ایک سنگل پر اپنی ٹیم کے ساتھ کھڑی ہو گئی جہاں جھگیوں کی درجنوں بچیاں والدین کی ڈانٹ ڈپٹ یا زبردستی وہاں رزق کی تلاش میں آئیں تھی لیکن افسوسناک بات ہے کہ رزق سے پہلے کئی حوس زدہ نظریں ان بچیوں کو پہلے ملتی تھی، گاڑیوں میں بیٹھے امیر زادے تو حوس کو بھی اپنی امیری کا ایک عظیم حصہ تصور کرتے ہیں ان بچیوں کو دن میں گاڑیاں صاف کرتے یا پھول بیچتے کمائی کے دو سو تین سو یا پانچ سو کے بدلے ہزاروں بھیڑئیے ٹکرتے ہیں لیکن کئی لوگ مافیا کہہ کر اپنا دامن بچا کر نکلتے ہیں بعد میں جب کوئی شرمناک واقعہ سامنے آئے تو اسٹیٹس پوسٹیں لگاتے نہیں تھکتے اور مرتے ، سوال تو یہ ہے کہ کیا آپ سچ میں جانتے ہیں کہ یہ مافیا ہے ؟؟؟؟؟ کیا آپ سچ میں جانتے ہیں کہ غربت ذلالت انکا شوق ہے ؟؟؟ کیا آپ سچ میں سمجھتے ہیں جھگی میں رہنے سے سڑک پر بھیک مانگنے تک سب کے پیچھے مافیا ہے ؟؟؟ کون مافیا اس مافیا کو لگام ڈالنے والا کوئی پیدا کیوں نہیں ہو، کیوں اس ریاست مدینہ میں صرف کرپشن ہی موضوع ہے غریب مرتا ہے مرے ھکومت کیون فکر کرے، کیا یہ ریاست سب کی نہیں ہر مذہب ہر طبقہ فکر ہر قسم کے انسان کی ریاست نہیں ہے یہ موضوع سے میں ہٹ نہیں رہی ان تمام باتوں کا ایک دوسرے کے ساتھ گہرا تعلق ہے ،مجھے افسوس ہوا جب میں نے تواتر سے دو تین بار سنا کے یہ لوگ ترقی نہیں کر سکتے افسوس ہوا بہت افسوس ہوا کیوں نہیں کر سکتے ترقی، کچھ نہیں کر سکتے تو اللہ سے دعا ہی کر لو کہ انکی زندگیاں بھی بدل جائیں ،یہاں بی اے ایم اے پاس ڈگریاں لے لے کر پھرتے ہیں تو ایک ناخواندہ کو کیسے کوئی نوکری ملے گی ، نئے پاکستان میں یہ بھیک نظام ختم کیوں نہیں ہوتا ، ریاست مدینہ ہے نا تو تبدیلی ان جھگیوں میں کچی بستیوں میں فٹ پاتھ پر سونے والوں کے لیے کیوں نہیں آتی ہر طرف خودغرضی بے حسی کے ڈیرے ہی کیوں ہیں ، یہ سب کچھ دیکھ کر مجھے ان این جی اوز کا بھی خیال آیا جو بہت کچھ بولتے ہیں یہاں این جی او والوں کی نظر کیوں نہیں پہنچتی ، غریب کے لیے دوسرا نظام کیوں؟؟؟؟ اور آخر میں گزارش ہے سب لوگوں سے خدارا آپ کسی سڑک پر چلنے والوں کو کچھ نہیں دے سکتے مت دیں لیکن یہ نہ کہا کریں کہ یہ اسکے حقدار نہیں، ہم بھی بہت سی چیزوں کے حقدار نہیں لیکن پھر بھی ہمارا رب ہمیں نوازتا ہے جب ہم مانگتے ہیں ناشکری کے باوجود ہمیں نعمتیں ملتی ہیں تو یہ مت کہا کریں ان کو نہیں دینا چاہئیے، اپنے ساتھ ساتھ مجھے اور سب کو تمام پاکستانیوں کو بھی دعاوَں میں یاد رکھئیے ایک دوسرے کو عزت دیجئیے ، عزت اچھا اخلاق سب کا حق ہے ،شکریہ اس شعر کے ساتھ اجازت چاہتی ہوں۔

خدارا یہ کیسا امتحان ہے ،،جھگی والوں کا غریبوں کا کیوں ابتر نظام ہے۔

کیوں وقت حکمران خاموش بے زبان ہے،، کیسے بدلے گا نظام کہاں تبدیلی کا نشان ہے۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment