نجکاری کمیٹی میں ممبران کا رکن پارلیمنٹ ہونا ضروری ہے، اسلام آباد ہائی کورٹ

کابینہ کی نجکاری کمیٹی میں وزیراعظم کے خصوصی مشیروں کی شمولیت کے خلاف کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی حکومت سمیت تمام فریقین سے ایک ہفتے میں جواب طلب کرلیا۔

 

تفصیلات کے مطابق جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دئیے کہ بہت سارے کیسز ایک ہی نوعیت کے یہاں زیر التوا ہیں، اس کو بھی ڈویژنل بنچ میں سماعت

کیلئے مقرر کرکے دوسری طرف کو بھی سن لیتے ہیں

 

کابینہ کی نجکاری کمیٹی کی تشکیل کے خلاف ن لیگ کی درخواست پر سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس عامر فاروق نے کی، وکیل بیرسٹر محسن شاہ نواز رانجھا نے دلائل میں مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ، مشیر ادارہ جاتی اصلاحات ڈاکٹر عشرت حسین، مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد کی کمیٹی میں شمولیت کو غیرآئینی قرار دے دیا۔

 

عدالت نے موقف اپنایا کہ کابینہ کمیٹی کے ممبران کا رکن پارلیمنٹ ہونا ضروری ہےمشیر آئین کے تحت حلف نہیں اٹھاتے اس لیے آئین، جمہوریت کے محافظ نہیں ہوتے، وزیراعظم کے مشیروں پر اہلیت اور نااہلی کی آئینی شقوں کا بھی اطلاق نہیں ہوتا۔

 

جسٹس عامر فاروق نے درخواستگزار کو مخاطب کیا اور ریمارکس دئیے کہ آپ کہہ رہے کمیٹی میں قومی اسمبلی کے ممبران ہونے چاہییں؟ بہت سارے کیسز ایک ہی نوعیت کے یہاں زیر التوا ہیں، نیشنل فنانس کمیشن اور معاونین خصوصی سے متعلق کیسز بھی زیر التوا ہیں، اس کو بھی ڈویژنل بنچ میں سماعت کیلئے مقرر کردیتے ہیں۔

 

عدالت نے تینوں مشیروں، کابینہ، ڈویژن اور خزانہ کے سیکرٹریز اور وفاقی حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ایک ہفتے میں جواب طلب کرلیا۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment