وفاقی اور صوبائی حکومتیں معزور افراد کے متعلق عدالتی حکم پر عملدرآمد کریں، سپریم کورٹ

سپریم کورٹ نے معزور افراد کے حقوق سے متعلق کیس نمٹا دیا، وفاقی اور صوبائی حکومتیں عدالتی ہدایات پر عملدرآمد یقینی بنائیں۔

 

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس سپریم کورٹ کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی، عدالت نے معزور افراد کے حقوق سے متعلق کیس کی سماعت میں وفاقی اور صوبائی حکومتیں عدالتی ہدایات پر عملدرآمد یقینی بنانے کا کہا ہے۔

 

 

چیف جسٹس اعجازالاحسن نے سماعت کے دوران کہا کہ 2015 سے کیس چل رہا ہے احکامات بھی دئے گئے، سپریم کورٹ نے ٹرانسپورٹ،ہسپتاوں اور بسوں میں معزور افراد سے متعلق انتظامات کا کہا مگر عملدرآمد نہیں ہوا۔

 

چیف جسٹس اعجاز الاحسن کا مزید کہنا تھا کہکسی کو انفرادی شکایت ہے تو متعلقہ فورم پر جا سکتا ہے۔

 

درخواست گزار وکیل نے عدالت میں دوران سماعت کہا کہ کہ آج تک حکومت کے پاس معزور افراد کے اعدادوشمار ہی نہیں۔

 

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا حکومت کے پاس معزور افراد کے اعدادوشمار ہیں؟ معزور افراد کا ڈیٹا ویب سائٹ پر جاری کیا جائے، معزور افراد کی اصل تعداد تومردم شماری کے بعد ہی معلوم ہوگی، کیس نمٹا رہے ہیں حکومتی رپورٹس کا جائزہ لے کر گائیڈ لائنز دیں گے

 

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ سروے میں معزور افراد کا ڈیٹا لیاجاتا ہے۔

 

ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل سندھ نے عدالت کو بتایا کہ سندھ میں 56ہزار 215 افراد کو معزوری پر سرٹیفیکٹ جاری کیا گیا ہے، سندھ حکومت نے معذور افراد کا کوٹہ بھی پانچ فیصد کردیا ہے۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment