مرد و زن، ایک شعر لیکن دو الگ الگ فقرے

صنف انسان میں مرد اور عورت مجھے قافیہ اور ردیف لگتے ہیں، جن کے بغیر وجود کا شعر مکمل نہیں ہوتا ۔ محبت، نفرت، خامشی ، شور ، نشیب و فراز ، خوشی ، غم ، وصل و ہجر کے جذبے سموئے ہوئے یہ صنف انسانی ایک شاہکار ہے۔

لیکن پتہ نہیں کیوں آج کی دنیا میں دونوں کو صنف مخالف کہا جاتا ہے اور اس پر عمل کروانے کیلئے دونوں طرح کے فقرے کشید کیے جاتے ہیں، دونوں اپنے الگ الگ مقام و منزلت کی بات کرتے ہیں۔

کہیں عورتوں کے حقوق اور مرد کے مظالم کی آواز بلند ہوتی ہے تو کہیں مرد کی غیرت اور جانفشانی کا راگ الاپا جاتا ہے۔ پتہ نہیں دونوں کو کب سمجھ آئے گی کہ اگر یہ فقرے الگ الگ لکھے جاتے رہے تو کبھی بھی شعر مکمل نہ ہو پائے اور معاشرہ کی یہ غزل کبھی بھی مکمل نہیں ہو پائے گی ۔۔ آزاد غزل ، نظم ، قطعہ ، ربائی ،شعر ہر جگہ پر دونوں فقرے لازم و ملزوم ہیں۔

چند دن پہلے سمیرا راجپوت کی ایک تحریر پڑھی محترمہ نے اچھا خاصا مرد کے وجود کو لتاڑا ہوا تھا وہ ہراسمنٹ کی بات کر رہی تھی انکی یکطرفہ تحریرسے انکار نہیں کیا جا سکتا ۔انھوں نے ایک مطالبہ پر اپنی تحریر ختم کی وہ یہ تھا (مجھ سمیت بہت سی خواتین کا ایک ہی مطالبہ ہے، جب ہمیں ہمارے گھر کے مرد باہر جانے سے پہلے، انٹرنیٹ کے استعمال سے پہلے، کسی سے تعلق قائم کرنے سے پہلے یہ کہتے ہیں کہ زمانہ خراب ہے تو یہ نہ کہیں کہ زمانہ خراب ہے بلکہ یہ کہیں ‘مرد خراب ہیں‘)

ایک سوال ہمارے ذہن میں موجود ہے، جب کوئی لڑکی ایسا لباس پہن کر نکلتی ہے جس کو گندہ کہا جاتا ہے تو کیا خرابی عورت کے لباس میں ہوتی ہے یا مرد کی سوچ میں؟

ٹرین میں ایک عمر رسیدہ شخص سامنے والی سیٹ پر بیٹھی ایک دوشیزہ کو بار بار دیکھ رہا تھا، کچھ دیر بعد لڑکی نے تنگ آکر ساتھی لڑکے کو یہ بات بتائی تو لڑکے نے اس عمر رسیدہ شخص کو کہا کچھ شرم کرو تو اس بوڑھے نے جواب دیا میں اس لڑکی کے جسم کے صرف وہی حصے دیکھ رہا جو اس نے دکھانے کیلئے عریاں رکھے ہیں، پھر اسکے بعد خاموشی چھا گئی۔

میرے خیال میں تہذیب کی تعریف بہت ضروری ہے اگر یہ تعریف سمجھ آ گئی تو شاید یہ شعر مکمل کرنے میں آسانی ہو سکے۔

تہذیب یہ ہے کہ جب کسی گاؤں میں سب دھوتی کرتا پہنا جاتا تو وہاں پتلون پہننا بد تہذیبی ہے، جب کسی جگہ سارے داڑھیوں والے ہوں تو وہاں پر شیو کروانا بد تہذیبی ہے اور اسی طرح اسکے الٹ بھی، جہاں پر دوپٹہ اور چادر اوڑھنے کا رواج ہو وہاں ننگے سر گھومنا بد تہذیبی گرادنی جائے گی۔

دونوں اصناف کی اپنی اپنی حدود قیود قائم ہیں، باشعور انسان بخوبی جانتے ہیں کہ انھوں نے کہاں کہاں تجاوز یا انحراف نہیں کرنا، شعور کو قطعا تعلیم سے نا جوڑا جائے۔

اب یہ مرد و زن خود کو گاڑی کے پہیے سمجھیں یا پھر نہر کے دو کنارے لیکن سمجھنے کی بات اتنی سی ہے کہ انکا وجود ایک دوسرے کے بغیر خود ان کیلئے خطرہ ہے۔

زندگی کی غزل تمام ہوئی قافیہ رہ گیا محبت کا )جون ایلیا( جون صاحب کا شعر بہت کچھ کہہ رہا ہے ۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment