ایران نے بھارت کو چا بہار پروجیکٹ سے نکال دیا

ایران نے بھارت کو چا بہار پروجیکٹ سے نکال دیا

پڑوسی ملک ایران نے بھارت پر تاخیری کا الزام لگاتے ہوئے 1.6 ارب ڈالر کے چابہار ریلوے پروجیکٹ سے بھارت کو نکال دیا۔ایران نے اب اس پروجیکٹ کو اپنے طور پر مکمل کرنے کا اعلان کیا ہے۔

 

ایران نے یہ غیر معمولی قدم ایسے وقت میں اٹھایا ہے جب اس نے چین کے ساتھ 400 ارب ڈالر کے 25 سالہ اقتصادی اور سکیورٹی معاہدے کو حتمی شکل دے دی ہے۔

 

اس کے نتیجے میں ایران میں بینکنگ، ٹیلی کمیونیکیشن، بندرگاہوں، ریلوے اور درجنوں دیگر ترقیاتی پروگراموں میں چین کی موجودگی نمایاں طور پردکھائی دے گی۔

 

بھارت نے ایران کی طرف سے کی گئی اس پیش رفت پر فی الحال کسی ردعمل کا اظہارنہیں کیا ہے۔

 

یاد رہے کہ مئی 2016 میں ایران میں چابہار بندرگاہ سے زاہدان تک ریلوے لائن کی تعمیر کے لیے ایران، بھارت اور افغانستان کے درمیان ایک سہ فریقی معاہدے پردستخط ہوئے تھے۔

 

بھارت کا ایران میں اس بڑے پراجیکٹ کا مقصد پاکستان کو درکنار کرتے ہوئے افغانستان اور وسطی ایشیا کے لیے ایک متبادل تجارتی راستہ تعمیر کرنا تھا، یہ تجارتی راستہ بھارت کی مغربی ریاست گجرات میں کاندھلہ بندرگاہ کو ایران کے چابہار بندرگاہ سے جوڑتا ہے۔

 

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی، ایرانی صدر حسن روحانی اور افغانستان کے صدر اشرف غنی کی   موجودگی میں اس معاہدے پربھارت کے حکومتی ادارے ارکون(IRCON)  (انڈین ریلوے کنسٹرکشن لمیٹیڈ) اور ایرانی وزارت ریلوے کے درمیان مئی 2016 میں دستخط ہوئے تھے۔

 

بھارتی میڈیا میں شائع ہونے والی نے متعدد رپورٹوں کے مطابق بھارتی کمپنی ارکون کے انجینئروں کے معتدد سائٹ وزٹ کے باوجود بھارت نے اب تک پروجیکٹ پر کام شروع نہیں کیا۔

 

بھارت کا ایران میں شراکت داری کے اس بڑے پراجیکٹ پر کام نہ کرنے کی وجہ امریکا کی طرف سے پابندیاں عائد کرنے کا خدشہ بتایا جاتا ہے، حالانکہ امریکا نے چابہار بندرگاہ سے زاہدان تک ریلوے لائن بچھانے کے پروجیکٹ کو پابندیوں سے چھوٹ دے رکھی ہے لیکن امریکا کی ناراضگی کے خوف سے کمپنیز ساز و سامان سپلائی کرنے سے گھبرا رہی ہیں، بھارت امریکی پابندیوں کی وجہ سے پہلے سے ہی ایران سے تیل کی درآمدات بند کرچکا ہے۔

 

چابہار بندرگاہ:

 

اس سال مارچ میں جب بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے تہران کا دورہ کیا تو ایرانی صدر حسن روحانی نے ملاقات کے دوران ان سے کہا تھا کہ بھارت چابہار پروجیکٹ کا کام شروع کرے کیوں کہ یہ دونوں ممالک اور علاقائی تجارتی تعلقات کے لیے کافی سود مند ہے، اس ملاقات کے دوران دونوں ممالک چابہار بندرگاہ کو اقتصادی لحاظ سے سود مند بنانے کے لیے مختلف اقدامات پر رضامند بھی ہوگئے تھے۔

 

اطلاعات کے مطابق تہران نے بھارت سے مالی امداد کے بغیر اب خود ہی چابہار۔ زاہدان ریلوے پروجیکٹ پر کام شروع کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

 

ایران کے وزیر ٹرانسپورٹ محمد اسلامی نے گزشتہ ہفتے اس پروجیکٹ کا باضابطہ افتتاح کیا، ایران کے افسران کے مطابق  628 کلومیٹر طویل یہ ریلوے لائن چابہار بندرگاہ سے ایران کے زاہدان تک اور وہاں سے افغانستان کے علاقے زارنج تک جائے گی، اس پروجیکٹ کو مارچ 2022 تک مکمل کرلیا جائے گا، اس پراجیکٹ کے لیے ایران کے نیشنل ڈیویلپمنٹ فنڈ سے 400 ملین ڈالر کی رقم مختص کی گئی ہے۔

 

ایران نے یہ قدم ایسے وقت اٹھایا ہے جب بھارت اور چین کے درمیان سرحدی کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے، دوسری طرف حال ہی میں چین اور ایران کے درمیان 400 ارب ڈالر کے اسٹریٹیجک انوسٹمنٹ کا ایک 25 سالہ معاہدہ ہوا ہے، اس معاہدے کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان بینکنگ سے لے کر ٹیلی کمیونیکیشن اور بندرگاہوں سے لے کر ریلویز تک مختلف ترقیاتی پروجیکٹوں میں سرمایہ کاری کی جائے گی۔

 

بھارت میں اسٹریٹیجک امور کے ماہر بریگیڈیر (ریٹائرڈ) این کے بھاٹیا کا کہنا ہے کہ ایران اور چین کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات بھارت کے لیے یقیناً تشویش کا موجب ہیں، بالخصوص اس حالت میں جبکہ چین اور پاکستان کے درمیان انتہائی قریبی تعلقات ہیں اور افغانستان اور بھارت کے تعلقات کے حوالے سے پاکستان کے رویے کا سب کو علم ہے۔

 

بریگیڈیر بھاٹیا کے مطابق ایران میں چین کے بڑھتے ہوئے تعلقات سے نہ صرف بھارت اور چین کے تعلقات پر بلکہ افغانستان اور وسطی ایشیائی ممالک میں بھی اس کے دیر پا اثرات مرتب ہوں گے۔

 

 

متعلقہ خبریں

Leave a Comment