جعلی ادویات کی روک تھام، ینگ فارماسسٹس نے بڑا مطالبہ کر دیا

کوہاٹ: ینگ فارماسسٹ کمیونٹی کوھاٹ یونیورسٹی کی نو منتخب خواتین کابینہ کا اجلاس بذریعہ ویڈیو لنک آج مورخہ 15 جولائی,صدر عشرت خٹک کی صدارت میں منعقد ھوا۔

 

تفصیلات کے مطابق ینگ فارماسسٹ کمیونٹی کوھاٹ یونیورسٹی کی نو منتخب خواتین کابینہ کے اجلاس میں شعبہ فارمیسی کے دیرینہ مسائل پر تفصیل گفتگو ھوئی۔ کابینہ اراکین کا کہنا تھا کہ 35 سالہ پرانے و فرسودہ ڈرگ رولز 1982 میں ترامیم حکومت کا اھم کارنامہ تھا جس سے عوام کو معیاری ادویات مستند افراد کے ھاتھوں فراھم کرنے میں مدد ملتی لیکن چند مفاد پرست عناصر کی ایماء پر ان ترامیم کو اسکی اصل روح میں نافذ نہیں کیا گیا جسکے نتیجے میں عوام کی زندگی کو ادویات کے حوالے سے شدید خطرات میں ڈال دیا گیا ھے ۔ کیٹگری سی لائسنس پر بلا جواز دو بار محلت دی گئی اور حکومت ایک بار پھر مزید محلت کی تیاری میں ھے۔

 

ارکان نے ذرائع کو مزید خبردار کرتے ھوئے کہا کہ ینگ فارماسسٹ کمیونٹی کوھاٹ یونیورسٹی حکومت کی ایسی کسی بھی تجویز کو مسترد کرتی ھے اور عوامی مفاد و جعلی ادویات کی روک تھام کیلئے ترامیم شدہ ڈرگ رولز کو اسکی اصل روح میں من و عن نافذ کرنے کا مطالبہ کرتی ھے۔ وزیر صحت کے ساتھ ھماری مرکزی قیادت کی ملاقات میں مثبت پیشرفت ھوئی ھے تاھم ڈرگ رولز نافذ نہ کرنے اور کیٹگری سی پر کسی بھی قسم کی محلت دینے کی صورت میں صوبہ بھر میں شدید احتجاج کیا جائے گا۔

 

اراکین نے مزید وضاحت کرتے ھوئے کہا کہ حکومت یونیورسٹی سے سالانہ بنیاد پر فارغ التحصیل ھونے والے اعلی تعلیم یافتہ ھزاروں پروفیشنل بے روزگار فارماسسٹ کے علم اور استعداد کو ضائع ھونے سے بچانے کیلئے سرکاری و نجی ھسپتالوں سمیت دیگر شعبہ میں اسامیاں پیدا کرے۔ حکومتی فائلوں میں فارماسسٹ کی سینکڑوں اسامیاں پہلے ہی التوا کا شکار ھیں اور اھل افراد بالخصوص فیمیل فارماسسٹ کی نا قدری کی وجہ سے بے چینی پائی جاتی ھے۔ حکومت خواتین فارماسسٹ کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرے۔

Leave a Comment