جسٹس فائز عیسی کیس کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی کی درخواست دائر

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے جسٹس قاضی فائز عیسی کیس کے فیصلے کیخلاف نظر ثانی درخواست دائر کردی۔

سپریم کورٹ بار کی 29 صفحات پر مشتمل درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل میں معاملہ بھیجنے کو خلاف قانون قرار دیا جائے،سپریم جوڈیشل کونسل کو ریفرنس پر مزید کاروائی سے روکا جائے، جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف نام نہاد شکایت کے نتیجے میں جاسوسی کی گئی,شکایت کی بنیاد پر ریاستی ایجنسیوں کو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور ان کے اہل خانہ کے خلاف جاسوسی کی اجازت دی گئی۔

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ جاسوسی عدلیہ کی خود مختاری کو ختم کرنے کے ساتھ ساتھ بلیک میلنگ کا لائسنس دینے کے مترادف بھی ہے، وفاقی حکومت کے وکیل نے جواب میں کہا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ذہنی مریض ہیں،
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس دائر کرنے کا مقصد دراصل انہیں فیض آباد دھرنا کیس کی سزا دینا ہے،اگر حکومت جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے معاملے میں کامیاب ہوگئی تو اس کے نتائج نہ صرف خودمختار عدلیہ بھگتے گی بلکہ مستقبل کے ججز بھی اس سے متاثر ہوں گے۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے اپنی درخواست میں مزید کہا کہ سابق جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے وی عدالت میں میں خفیہ ایجنسی کی مداخلت کی بات کی تھی،سابق جج شوکت عزیز صدیقی کے الزامات کی تحقیقات کی بجائے انہیں عہدے سے برطرف کردیا، تمام جان بوجھ کر میڈیا ٹرائل کی غرض سے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے ریفرنس کے مندرجات میڈیا کو جاری کیے گئے،سابق چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ عدلیہ کو باہر سے نہیں بلکہ اپنے اندر سے خطرات لاحق ہیں،سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن سابق چیف جسٹس کے اس موقف سے متفق ہے۔

 

متعلقہ خبریں

Leave a Comment