ایوان بالاء کی قائمہ کمیٹی کا اجلاس، اسٹیل ملز کی نجکاری کے فیصلے کا جائزہ لیا

اسلام آباد : ایوان بالاء کی قائمہ کمیٹی برائے صنعت و پیدا وار کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر احمد خان کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پاکستان اسٹیل مل کے ملازمین کی تعداد، کل زمین، ملازمین کی تنخواہیں وپنشن کی ادائیگی اوراسٹیل مل کی نجکاری کے حوالے سے کیبنٹ کے فیصلے کے معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔

 

چیئرمین کمیٹی سینیٹر احمد خان نے کہا کہ پاکستان اسٹیل مل ملک کا انتہائی اہم ادارہ تھا جس نے ہزاروں خاندانوں کو نہ صرف روزگار فراہم کیا بلکہ ملکی ترقی میں اہم کردار ادا کیا مگر بد قسمتی سے وقت گزرنے کے ساتھ 2008 کے بعد اس ادارے کو خسارے کا سامنا کرنا پڑا جس سے اس کے معاملات میں مسائل پیدا ہوئے اور 2015 میں مل کو بند کر دیا گیا۔ملازمین کی تنخواہوں اور پنشنز کے حوالے سے بھی مسائل سامنے آئے۔انہوں نے کہا کہ ادارے کے مسائل کے حل کیلئے اس قائمہ کمیٹی نے اسٹیل مل کا دورہ بھی کیا اور اس کے مسائل حل کرنے کی کوشش بھی کی۔مل کے ملازمین کی حالت زار بہت خراب ہے فون پر مجھے آگاہ کیا گیا مل کا ایک پنشنر انتقال کر گیا اور ان کے پاس کفن کے پیسے بھی نہیں ہیں۔ لوگ آج بھی اس کی بحالی کیلئے مختلف شہروں میں پریس کلبوں کے سامنے احتجاج کر رہے ہیں۔

چیئرمین کمیٹی نے کہاکہ اسٹیل مل پاکستانی معیشت کی شہ رگ ہے اورہمیں اسٹیل مل کے مزدروں کا احساس کرنا چاہئے۔

 

قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ اس مل کیلئے1973 میں 19013 ایکڑ زمین خریدی گئی اور اس زمین کے 10273 ایکڑ رقبے پر پلانٹ اور دیگر مشنری اورضروری ایکومنٹ لگائی گئی۔8071 ایکڑ رقبہ ٹاؤن شپ کیلئے مختص کیا گیا۔پاکستان اسٹیل مل نے 930 ایکڑ زمین نیشنل انڈسٹری پاک منیجمنٹ اینڈ ڈویلپمنٹ کمپنی کو صنعتی پارک کی ڈویلپمنٹ کیلئے لیز پر دی اور مل میں 1049 ایکڑزمین ٹاؤن شپ اور رہائشی علاقے کیلئے ایمپلائز کو لیز پر دی۔

 

سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ پاکستان اسٹیل مل نہ صرف پاکستان بلکہ پورے ایشاء کا سب سے بڑا ادارہ تھا اور پاکستان سمیت دیگر مسلم ممالک کو اس سے بڑی امیدیں تھیں۔اس مل کے اندر خوبصورت ٹاؤن، بجلی گھر، ریلوے کی20 بوگیاں، 4.5 کلو میٹر ساحلی پٹی، سکول، کالج، مارکیٹں، کھیل کے میدان اور ہسپتال بھی بنائے گئے تھے اور یہ ادارہ ملک کی ترقی کی ضمانت سمجھا جاتا تھا۔ اس ادارے نے 150 ارب کے ٹیکس بھی حکومتی خزانے میں جمع کرائے۔2008 تک منافع بخش رہنے کے بعد اچانک ایک سال کے اندر خسارے میں چلا گیا۔ مختلف حکومتوں نے اسے منافع بخش بنانے کی کوششیں کیں مگر کامیاب نہیں ہوئے۔ ادارے کی گیس بند ہونے سے دیگر بہت سے مسائل سامنے آئے۔

 

سراج الحق نے مزید کہا کہ اس ادارے کی زمین مختلف اداروں کو سستے داموں دی گئی ہیں۔ہزاروں مزدوروں کے واجبات بھی ادا نہیں کیے گئے۔ حکومت نے گولڈن ہینڈ شیک کا اعلان کیا تھا اس پر کیا عمل کیا جارہا ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ مل کی نجکاری کرنے کی بجائے اسے قابل عمل بنایا جائے اور ادارے کے سی ای او کا جلد سے جلد تقرر عمل میں لایا جائے تاکہ منیجمنٹ میں بہتری لائے جا سکے اور مل میں پروفیشنل لوگوں کو بھرتی کیا جائے۔ گیس کے بل کے جرمانے ختم کر کے گیس کی بحالی کی جائے اور مل کے تمام یونٹس کو چلایا جائے تاکہ ادارہ ملازمین کی تنخواہ ادا کرنے کے قابل ہو سکے۔

 

وفاقی وزیر برائے صنعت و پیدا وار محمد حماد اظہر نے کمیٹی کو بتایا کہ 2008 میں پاکستان اسٹیل مل کے فنڈ میں 10 ارب روپے موجود تھے، عالمی منڈی میں اسٹیل کی قیمتیں کم ہونے کی وجہ سے اسٹیل ملز کو خسارے کا سامنا کرنا پڑا اورساڑھے4 ہزار اسٹیل ملز ملازمین کو 2010 میں مستقل کردیا گیا، اس ادارے کی 2010 میں اوسط پیداوار 40 فیصد ہو گئی اور بعد میں 6 فیصد ہوئی تو2015 میں اس ادارے کو بند کر دیاگیا، پانچ سال تک ملازمین کو اربوں روپے کی تنخواہیں اور پنشن دی گئی، مختلف حکومتوں نے اسے 80 ارب روپے کے پیکج بھی دیئے۔ شروع سے ہی ملازمین کی تعداد بہت زیادہ تھی۔19 ہزار ایکڑ رقبے میں سے 1700 ایکڑ رقبے پر پلانٹ موجود ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اسٹیل ملز کا خسارہ 225 ارب روپے سے زائد ہے اوراسٹیل ملز کا سامان بھی بہت زیادہ چوری ہوا ہے۔پاکستان میں اسٹیل کی کھپت 70 لاکھ ٹن ہے پاکستان کی اسٹیل ملز 70 لاکھ ٹن کے اہداف کو پورا بھی کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اسٹیل ملز ہو یا کوئی اور اسٹیل مل ہو را میٹریل امپورٹ کرنا پڑتا ہے۔

 

حما د اظہر نے مزید بتایا کہ اسٹیل ملز کی کچھ زمین لیز پر دے رہے ہیں۔اگر ان اداروں کو کھڑا کرنا ہے تو پھر بڑے فیصلے کرنا ہونگے۔اسٹیل ملز کو پرائیویٹ شراکت داروں کیساتھ مل کر چلائیں گے۔ انہوں نے کہا مل کی نجکاری نہیں ہوگئی اور اس سال کے آخر میں جوائنٹ وینچر کے ذریعے چلانے کیلئے بڈنگ دیں گے۔ 12 بین الاقوامی کمپنیوں سے خط وکتابت بھی کی ہے اور6 کمپنیوں نے اس ادارے کو دورہ بھی کیا ہے۔ سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ ایسی حکمت علمی اختیار کی جائے کہ ہزاروں لوگوں کو بے روزگار ہونے سے بچایا جائے۔انہوں نے کہا کہ قائمہ کمیٹی ایک ذیلی کمیٹی تشکیل دے جو ایک متبادل پروگرام کی رپورٹ بنا کر قائمہ کمیٹی اور حکومت کو فراہم کرے اور اس کمیٹی میں سینیٹر لیفٹینٹ جنرل (ر) عبدالقیوم (ہلال امتیاز ملٹری) کو بھی شامل کیا جائے۔

 

حماد اظہر نےکہا کہ اس ادارے کے پاس جو زمین ہے انتہائی مہنگی ہے کچھ زمین فروخت کر کے اس کے واجبات ادا کیے جاسکتے ہیں۔تمریز خان ملازم اسٹیل مل نے کمیٹی کو بتایا کہ اگر مل کو چلایا جائے تو مل اپنے وسائل سے تمام واجبات ادا کر سکتی ہے۔ہمیں منیجمنٹ کی ضرورت ہے۔ شراکت داری سے بھی مسائل حل نہیں ہونگے۔

 

کمیٹی کے آج کے اجلاس میں سینیٹرز سیمی ایزدی، محمد علی خان سیف، کیشو بائی، ستارہ ایاز اور سراج الحق کے علاوہ وفاقی وزیر صنعت و پیدا وار محمد حماد اظہر، سیکرٹری صنعت و پیدا وار اور دیگر حکام نے شرکت کی۔

Leave a Comment