کلبھوشن یادیو کیس: وزارت قانون کا آرڈیننس قومی اسمبلی میں پیش کرنیکی تجویز

کلبھوشن یادیو کیس: وزارت قانون نے آرڈنینس کی مدت مکمل ہونے پر قومی اسمبلی سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

پاکستان کے صوبے بلوچستان سے پکڑے جانے والے بھارتی خفیہ ایجنسی کے جاسوس کلبھوشن یادیو کے معاملے پر اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، وزارت قانون نے آرڈیننس قومی اسمبلی میں پیش کرنے کی تجویز دیدی ہے، یہ آرڈیننس جلد قومی اسمبلی میں پیش کیے جانے کا امکان ہے، وزارت قانون آرڈیننس کی مدت کل رات بارہ بجے ختم ہو جائے گی۔

تفصیلات کے مطابق بھارتی نیوی کے حاضر سروس کمانڈر کلبھوشن یادیو عرف حسین مبارک پٹیل کو قانون نافذ کرنے والے اداروں نے 2016 میں بلوچستان میں تخریبی کاری کرنے کے جرم میں گرفتار کیا تھا۔

اُدھر وزارت قانون نے کلبھوشن یادیو سے متعلق آرڈیننس خاموشی سے جاری کرنے کے الزامات سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا کہ سزا کے خلاف اپیل کیلئے جاری آرڈیننس میں کوئی بد نیتی نہیں، بھارت خود کلبھوشن یادیو کا معاملہ عالمی عدالت انصاف میں لے کر گیا۔

ترجمان وزارت قانون کے مطابق عالمی عدالت انصاف نے فیصلہ دیا کہ کلبھوشن یادیو کو اپیل کا حق دیا جائے، عالمی عدالت کے فیصلے پر عملدرآمد کیلئے آرڈیننس جاری کیا گیا، ماضی میں حکومتیں اسی طریقے سے آرڈیننس جاری کرتی رہیں ہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ عائشہ فاروقی نے بتایا کہ کلبھوشن کو تیسری دفعہ قونصلر رسائی دینے کا فیصلہ جذبہ خیر سگالی کے طور پر کیا گیا اور اس سلسلے میں بھارت کے جواب کا انتظار ہے۔

۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment