پاکستان میں آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے

امریکی ادارہ ورلڈ پاپولیشن ڈیٹا شیٹ کے نے ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ شہری علاقوں میں گنجان آبادی، گھر کا رقبہ اور آبادی میں اضافہ وبائی مرض کا شکار ہونے کا خطرہ بڑھا دیتا ہے۔

 

امریکی آبادی ریفرنس بیورو واشنگٹن کے ذریعے جاری کردہ 2020ء ورلڈ پاپولیشن ڈیٹا شیٹ کا بھی اندازہ ہے کہ آج دنیا میں کل 7 ارب 80 کروڑ آبادی ہے، امریکی ادارے کے مطابق پاکستان کی مجموعی آبادی کا تخمینہ 22 کروڑ 90 لاکھ ہے اور اس میں ہر جوڑے کی سالانہ 3.6 بچوں کی شرح تیزی کے ساتھ بڑھ رہی ہے۔

 

کورونا وائرس بحران کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ شہری علاقوں میں گنجان آبادی، گھر کا رقبہ اور آبادی میں اضافہ وبائی مرض کا شکار ہونے کا خطرہ بڑھا دیتا ہے۔ اس رپورٹ میں جنوبی ایشیاء کو دنیا اور خطے کے اندر تیزی سے بڑھنے والے خطوں میں شامل کیا گیا ہے، رپورٹ کے مطابق جنوبی ایشیا میں افغانستان اور پاکستان میں آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔

 

افغانستان کی شرح پیدائش پاکستان کے مقابلے میں زیادہ تیز 4.5 بچے فی جوڑا ہے، تاہم موت کی شرح اور متوقع عمر کم ہونے کی وجہ سے ملک کی کل آبادی اب بھی 3 کروڑ 89 لاکھ ہے۔ پاکستان کی شرح پیدائش 3.6 ہے، جہاں آبادی 19.4 سالوں میں دگنی ہو جاتی ہے۔ ملک کو اپنی آبادی کو کم کرنے کے لیے اپنی شرح پیدائش کو سالانہ 2 فیصد تک لانے کی ضرورت ہے۔

 

بنگلہ دیش کی 2020ء میں کل آبادی کا تخمینہ 16 کروڑ 98 لاکھ ہے، جس کی سالانہ شرح پیدائش 2.3 ہے۔ مجموعی طور پر ایک ارب 42 کروڑ 40 لاکھ کی آبادی کے ساتھ چین اب بھی دنیا کی سب سے زیادہ آبادی رکھتا ہے، تاہم وہ اپنی شرح پیدائش کو 1.5 تک کم کرنے میں کامیاب رہا ہے، جس کی وجہ سے 2050ء تک چین کی آبادی کم ہونے کا امکان ہے۔

ایک ارب 40 کروڑ کی آبادی کے ساتھ انڈیا دنیا کی دوسری بڑی آبادی والا ملک ہے، تاہم اس نے اپنی شرح پیدائش کو کم کرکے 2.2 کر دیا ہے۔

 

امریکا میں مجموعی طور پر 32 کروڑ 99 لاکھ کی آبادی ہے اور 2020ء اور 2050ء کے درمیان اس کی آبادی میں اضافے کا امکان ہے، تاہم حالیہ دہائیوں کے مقابلے میں اس اضافے کی رفتار سست ہوئی ہے۔ امریکا میں سالانہ شرح پیدائش 1.7 ہے، جو تارکین وطن کو اپنی ورک فورس کو مضبوط بنانے کی اجازت دینے پر مجبور کرتی ہے۔

 

 

متعلقہ خبریں

Leave a Comment