شوگر کمیشن کا نوٹیفیکیشن کابینہ ڈویژن کے بجائے غلطی سے وزارتِ داخلہ نے جاری کیا: اٹارنی جنرل

اٹارنی جنرل آف پاکستان خالد جاوید خان نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں شوگر کمیشن کا نوٹیفیکیشن جاری کرنے کے حوالے سے حکومت کی غلطی تسلیم کرلی ہے۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل ڈویژن بینچ نے چینی انکوائری کمیشن کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل پر سماعت کی۔ اٹارنی جنرل آف پاکستان خالد جاوید خان عدالت میں پیش ہوئے اور موقف اپنایا کہ چینی انکوائری کمیشن کے ممبران کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن 16 مارچ کو ہوا، کہا گیا کہ ہمارا میڈیا ٹرائل ہو رہا ہے۔ میں نے سنگل رکنی بینچ کے سامنے کہا کہ میڈیا ٹرائل نہیں ہوگا، بہت سے نکات ہیں جو نہ عدالت میں زیر بحث رہے اور نہ ہی عدالتی فیصلے میں، حکومت نے اپنے اختیارات میں اچھا کرنا چاہے۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں انکوائری رپورٹ کے میرٹ پر نہیں جا رہا، انکوائری کے دوران وزیر اعلی وفاقی وزیر اور کابینہ ارکان پیش ہوئے، کیسے کہا جاتا ہے کہ رپورٹ معتصبانہ اور جانبدار ہے؟ کمیشن نے مختلف قوانین کو دیکھ کر رپورٹ تیار کی۔

اٹارنی جنرل کا مزید کہنا تھا کہ کمیشن رپورٹ کے خلاف ایک درخواست اسلام آباد ہائی کورٹ اور ایک لاہور ہائی کورٹ میں دائر کی گئی ہے، یا تو حکومت خاموش رہتی یا میڈیا میں صرف باتیں کرتی یا پھر کام کرتی۔ حکومت نے مفاد عامہ کے تحت کمیشن رپورٹ پبلک کر دی،حکومت کے اتحادیوں کے خلاف بھی انکوائری کی گئی۔ مضبوط اتحادیوں کے خلاف جانا حکومت کو گرانے جیسا تھا، حکومت نے اتحادیوں کے سامنے گھٹنے ٹیکنے کے بجائے انکوائری کا حکم دیا، رولز آف بزنس کے مطابق سمری وفاقی کابینہ نے بھیجی۔

عدالت نے استفسار کیا کہ کمیشن بنانے کا نوٹیفکیشن کابینہ ڈویژن نے جاری کرنا تھا وزارت داخلہ نے کیسے جاری کیا؟ اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے موقف اپنایا کہ یہ نوٹیفیکیشن کابینہ ڈویژن کی جانب سے جاری کیا جانا چاہیے تھا۔ یہ معصومانہ غلطی تھی کہ نوٹیفیکیشن وزارت داخلہ نے جاری کیا۔

جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیئے کہ اگر آپ کی دلیل کو مان لیا جائے تو اس کے کے اثرات بہت آگے تک ہونگے۔ جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ پھر تو وزارت نوٹیفیکیشن جاری کریں گی اور اسے جواز بنا لیں گی۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ نوٹیفیکیشن جاری کرنے میں بد نیتی شامل نہیں تھی عدالت خلطی کو نظر انداز کر سکتی ہے۔ جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ کیا حکومت کو غلطیاں کرنے کا لائسنس دے دیں؟ آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ حکومت کی جانب سے نوٹیفیکیشن جاری کرنے میں غلطی ہوئی؟

عدالت نے کیس کی سماعت کل تک ملتوی کر دی اٹارنی جنرل آف پاکستان خالد جاوید خان کل بھی اپنے دلائل جاری رکھیں گے۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment