سپریم کورٹ نے مطیع اللہ جان اغوا بارے رپورٹ طلب کر لی

سپریم کورٹ میں مطیع اللہ جان از خود نوٹس کیس کی سماعت دو ہفتے تک ملتوی، عدالت نے مطیع اللہ جان کے اغوا سے متعلق آئی جی اسلام آباد سے 2 ہفتوں میں رپورٹ طلب کر لی۔

 

چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں تین رکن بنچ نے مطیع اللہ جان از خود نوٹس کیس کی سماعت کی۔سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس پاکستان نے استفسار کیا کہ کل مطیع اللہ جان جان کو اغوا کیا گیا مطیع اللہ جان کا بیان ریکارڈ کیوں نہیں ہوا، حکومتی ادارے کیا کر رہے ہیں؟ عدالت نے آئی جی اسلام آباد کو روسٹرم پر طلب کرلیا مگر آئی جی عدالت میں موجود نہیں تھے۔

 

چیف جسٹس پاکستان نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ اٹارنی جنرل صاحب مطیع اللہ جان کے اغوا سے متعلق کیا تحقیقات ہوئیں؟ اٹارنی جنرل نے کہاکہ مطیع اللہ جان کے بھائی کی مدعیت میں مقدمہ درج ہوچکا ہے، کل رات کو مطیع اللہ جان واپس آگئے تھے، چیف جسٹس نے کہاکہ آپ کے کہنے کا مطلب ہے کہ خود ہی اغوا ہوئے اور خود سے واپس آگئے ہیں،اٹارنی جنرل نے کہاکہ نہیں میرے کہنے کا یہ مطلب نہیں تھا

 

چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ کسی ایجنسی یا ادارے کو یہ اجازت نہیں کہ وہ قانون ہاتھ میں لے، اٹارنی جنرل نے کہاکہ حکومت نے اعلی ترین سطح پر معاملے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے، حکومت نے حکم دیا ہے کہ جو بھی ذمہ دار ہے اسے چھوڑا نہیں جائے گا۔

 

دوران سماعت مطیع اللہ جان نے کہاکہ مجھے امید ہے کہ عدالت فری ٹرائل کو یقینی بنائے گی، توہین عدالت کیس میں وکیل کرنے کی اجازت دی جائے،چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ نے توہین عدالت نوٹس کا جواب جمع کرایا ہے، جس پر مطیع اللہ جان نے کہا کہ میں اغواء ہو گیا تھا اس لیے توہین عدالت نوٹس کا جواب داخل کرنے کیلئے بھی مہلت دی جائے، چیف جسٹس نے مطیع اللہ جان کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ فری ٹرائل ہی ہوگا، آپ کو یہ بات کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔

 

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ عدالت فری ٹرائل کو یقینی بنائے گی، ہم فری ٹرائل کو یقینی بنانے کیلئے یہاں بیٹھے ہیں، سب سے پہلے تو مطیع اللہ جان کا بیان ریکارڈ ہونا چاہئیے تھا۔

 

سینئر قانون دان سردار لطیف کھوسہ نے عدالت میں کہاہےکہ مطیع اللہ جان کو دن دہاڑے اٹھا لیا گیا؟ کیا یہ بنانا ریپبلک ہے؟ ویڈیو موجود ہے اغواء کاروں کو شناخت کیا جانا چاہیے، پی ایف یو جے کے سابق صدر افضل بٹ نے عدالت سے استدعا کی کہ معاملے کو ختم نہ کیا جائے؟اغواء کارواں کو سامنے لایا جائے۔

 

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہم اس کیس کو ختم نہیں کر رہے، مطیع اللہ جان نے کہاکہ میرے اغوا کو مبینہ اغوا نہ کہا جائے،جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے کہاکہ یہ عدالتی زبان ہے آپ ابھی اپنے جواب تک ہی محدود رہیں۔

 

عدالت نے مطیع اللہ جان کے اغوا سے متعلق آئی جی اسلام آباد سے 2 ہفتوں میں رپورٹ طلب کر لی،

توہین عدالت کے معاملے پر مطلع اللہ جان کو بھی 2 ہفتوں میں جواب جمع کرانے کا حکم دیا، عدالت نے حکم دیا کہ مطیع اللہ جان پولیس میں بیان ریکارڈ کرادیں، حکومت صحافی کے اغوا کی درج ایف آئی آر پر قانون کے مطابق کاروائی کرے۔عدالت نے آئی جی اسلام آباد پولیس کو قانون کے مطابق کاروائی کرکے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment