کرپشن مقدمات کے فیصلوں میں تاخیر کا ذمہ دار نیب ہے:سپریم کورٹ

لاکھڑا پاور پلانٹ تعمیر میں بے ضابطگیوں کے کیس میں سپریم کورٹ نے کرپشن مقدمات کے فیصلوں میں تاخیر کاذمہ دار نیب کو قراردیدیا،عدالت نے حکم دیا کہ نیب تفتیشی افسروں میں اہلیت اورصلاحیت نہیں ،چیئرمین نیب تفتیشی ٹیم کو تبدیل کریں۔

 

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں چیف جسٹس جسٹس گلزار احمد کی سراہی میں تین رکنی بنچ نے لاکھڑا پاور پلانٹ تعمیر میں بے ضابطگیوں کے کیس کی سماعت کی عدالت نے کرپشن مقدمات کے فیصلوں میں تاخیر کاذمہ دار نیب کو قرار دیدیا، سپریم کورٹ نے حکم دیتے ہوئے کہاکہ نیب تفتیشی افسروں میں اہلیت اورصلاحیت نہیں ،چیئرمین نیب تفتیشی ٹیم کو تبدیل کریں۔

 

چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ نیب میں تفتیش کامعیار جانچنے کیلئے کوئی نظام نہیں ،عدالت نے کہاکہ کیا ریفرنس دائر کرنے کے بعد نیب اپنی غلطیاں سدھارنے کی کوشش کرتا ہے؟،غلطیوں سے بھرپور ریفرنس پر عدالتوں کوفیصلہ کرنے میں مشکلات ہوتی ہیں،کرپشن مقدمات کے فیصلوں میں تاخیرکاآغاز ہی نیب آفس سے ہوتا ہے ۔

 

چیف جسٹس گلزاراحمد نے کہاکہ نیب کے تفتیشی افسروں میں صلاحیت کافقدان ہے،قانونی پہلوﺅں کاتفتیش افسروں کوپتہ نہیں ہوتا تحقیقات برسوں چلتی رہتی ہیں ،لوگ برسوں تک نیب میں پھنس جاتے ہیں ،ریفرنس کی بنیاد ہی غلط ہوتی ہے،ریفرنس میں کوالٹی نہیں ہوتی ،کوالٹی کاایک گواہ ہی کافی ہوتا ہے، چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ نئی عدالتوں کے قیام میں 2.86 ارب کا مسئلہ چوزے کی خوراک کے برابر ہے،نیب مقدمات جیتے تو ہزار ارب سے زائد کی ریکور ہو سکتی، دو ارب تو نیب کے ایک کیس سے ہی نکل آئیں گے، حکومت کے پاس اب زیادہ وقت نہیں، بیس بیس سال سے مقدمات احتساب عدالتوں میں پڑے ہیں۔

 

چیف جسٹس نے استفسار کیاکہ کیاپراسیکیوٹر جنرل نیب آئے ہیں ؟،چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ آپ نے تمام الزام عدالتوں پر لگا دیا ،پراسیکیوٹر جنرل نے کہاکہ نہیں !ایسا نہیں ہے ،پراسیکیوٹر جنرل نیب،ایساہی ہے ہمیں کوئی معاونت نہیں ملتی ،نیب پراسیکیورٹر جنرل نے کہا کہ چیئرمین نیب اور پراسیکیوٹرز کو دھمکیاں مل رہی ہیں،راولپنڈی میں ایک پراسیکیوٹر پر فائرنگ کی گئی،راولپنڈی پولیس تو فائرنگ کا مقدمہ ہی درج نہیں کر رہی تھی، فائرنگ کا مقدمہ درج کرانے کیلئے کس کو بیچ میں ڈالنا پڑا۔

 

نیب پراسیکیورٹر نے کہاکہ حکومت ہمیں فنڈز دینے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہے،فنڈز ملیں تو اچھے پراسیکیوٹرز بھرتی کرینگے جس پر جسٹس یحیی آفریدی نے کہاکہ فنڈز انتظامی معاملہ ہے عدالت کچھ نہیں کر سکتی

 

سپریم کورٹ نے کابینہ سے 120 نئی احتساب عدالتوں کے قیام کی منظوری لینے کی ہدایت کر دی،

عدالت نے کہاکہ سیکرٹری قانون کابینہ سے منظوری لے کرایک ماہ میں ججز تعیناتی کاعمل شروع کریں، سپریم کورٹ نے نئی احتساب عدالتوں کیلئے انفراسٹرکچر بھی بنانے کاحکم دیدیا۔

 

سپریم کورٹ میں 21 سال سے نیب کے رولز ہی نہ بننے کاانکشاف ہوا ،سپریم کورٹ نے نیب کو ایک ماہ میں رولز بنا کرپیش کرنے کاحکم دیدیا،عدالت نے کہاکہ رولز نیب آرڈیننس کی سیکشن 34 کے تحت بنائے جائیں ،نیب کے ایس او پیز رولز کامتبال نہیں ہوسکتے ۔پراسیکیوٹر جنرل نیب نے رولز نہ ہونے کااعتراف کرلیا۔کیس کی سماعت مزید ایک ماہ کیلیے ملتوی کردی گئی۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment