سال 2020 کے پردیسی

Sidra Saeed

” آج عجیب سی گھبراہٹ ہے ! دل بھی بے چین ۔۔۔ کام پر دھیان بھی نہیں دیا جارہا ۔ عمران علی ساتھی ورکر سے اپنی کیفیت بیان کرتے ہیں۔

اسی دوران موبائل فون کی گھنٹی بجتی ہے۔ عمران علی دیکھتے ہیں کہ ان کے گھر سے فون آیا ہے۔ وہ جھٹ سے فون اٹھاتے ہیں اطلاع ملتی ہے کہ والدہ کا انتقال ہو گیا ۔ ان کی والدہ بھی کورونا وائرس میں مبتلا تھیں۔

عمران علی کا تعلق بھارت سے ہے اور سعودی عرب کی ایک کمپنی میں بطور سیفٹی انجئینر کام کرتے ہیں عمران کے پاس نوکری بھی ہے اور نہ ہی انہیں کسی معاشی مسائل کا سامنا ۔ لیکن کورونا کے باعث فلائٹ آپریشن رکنے سے وہ اپنی بیمار ماں سے ملنے جا سکیں نہ ہی جنازے کو کندھا دے سکیں۔ چند روز قبل ان کی والدہ بیٹے کی راہ تکے دنیا سے رخصت ہو گئی ۔”

یہ صرف عمران علی کی بے بسی نہیں کورونا نے کئی زندگیوں پر ان گنت نقوش چھوڑے ہیں ۔ آنکھوں میں بہترین مستقل کے خواب سجائےروزگار کی غرض سے بیرون ملک مقیم نوجوانوں کا مستقبل داو پر لگا ہواہے۔جو لوگ فلائٹ آپریشن کی بندش سے قبل چھٹیاں گزارنے اپنے گھروں کو لوٹے پیچھے ان کی نوکریاں چھن گئی ۔ 

”پاکستان کے شہر فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے محمد ابرا سعودی عرب کی کنسٹرکشن کمپنی میں بطور الیکڑیشن کام کرر ہے تھے۔ جنوری 2020 میں شادی کیلئے ڈھائی ماہ کی چھٹیوں پر پاکستان آئے ۔ جب ابرا نے اپنی نوکری پر واپس سعودی عرب جانا تھا تو اس سے ایک ہفتہ قبل کورونا وائرس کے باعث مارچ میں 2020 انٹرنیشنل فلائٹس بند ہو گئی ۔کچھ عرصے بعد ان کا ایگزیکٹ اینٹری بھی ایکسپائر ہوگئی اور اب اگست میں اقامہ بھی ایکسپائر ہو نے والا ہے۔ کام پر نہ ہونے کی وجہ سےکمپنی تنخواہ بھی نہیں دے رہی اور وہ پاکستان میں بے روزگار ہیں۔ ا قامہ کی مدت تین ماہ بڑھانے کا اعلان تو حکومتی سطح پر ہوا تھا پر اب تک عمل نہیں ہوا۔ نوکری چھوٹ جانے کا خوف ابرا جیسے کئی ملازمین کے سر پر منڈلا رہا ہے۔ ”

کورونا وائرس کے سبب جو دھچکا پوری دنیا کی معیشت کو لگا ہے اس سے سب سے زیادہ تارکین وطن ملازمین متاثر ہوئے ہیں۔بہت سی کمپنیوں نے اپنے ورکرز کو یہ کہہ کر نکا ل دیا ہے کہ جب کمپنی کے حالات ٹھیک ہوئے تو آپ کو دوبارہ رکھ لیا جائے گا ۔ اور یہ سلسلہ رکا نہیں ہے ابھی بھی لوگوں کو لے آف پر گھر بھیجا جا رہا ہے۔ بہت سی کمپنیز نے یہ قانون نکالا ہے کہ جتنے گھنٹے کام لیا جائے گا اتنے گھنٹے کی اجرت دی جائے گی۔اور اگر کام نہیں ہو گا تو آپ گھر بیٹھیں گے اورآپ کو کوئی پیسہ نہیں دیا جائےگا۔کئی ملازمین کی تنخواہوں میں 30 سے 40 فیصد کمی بھی کردی گئی ہے۔

”اسی طرح متحدہ عرب امارات میں نوکری کے غرض سے مقیم محمد کاشف بھی اس معاشی چیلنج کا سامنا کررہے ہیں ۔ محمد کاشف کے تین بچے ہیں اور ان کا خاندان پاکستان میں مقیم ہے۔ یو اے ای میں 4 سال سے ایڈورٹائزنگ ایجنسی میں بطور سیلز ایگزیکٹیو کام کررہے ہیں۔اور اپنی تنخواہ کا زیادہ حصہ پاکستان اپنے خاندان کو بھیجتے ہیں جس سےان کے خاندان گزر بسر ہوتا ہے ۔ ماہانہ 4 ہزار درہم کمانے والے محمد کاشف کی تنخوا ہ میں مارچ سے 30 فیصد کٹوتی کی جارہی ہے۔ مطلب 4 ہزار درہم میں سے اب 12 سو درہم ہر مہینے کٹے جاتے ہیں، جس میں سے انہیں یو اے ای میں اپنی رہائش اور کھانے پینے کے علاوہ پاکستان میں اپنے خاندان کی کفالت بھی کرنی پڑ رہی ہے۔ ”

مرد حضرات کے ساتھ وہ خواتین بھی جو پردیس میں روزگار کی خاطر سکونت اختیار کئے ہوئے ہیں ، مالی مشکلات کا شکار ہیں ۔ انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی رپورٹ کے مطابق وبائی مرض سے فروری کے بعد سے بے روزگاری میں نمایاں اور تیزی سے اضافہ ہوا اس سے جوان مردوں سے زیادہ نوجوان خواتین متاثر ہوئی ہیں۔

”ایسی ہی ایک نیپالی خاتون گتیہ پرتگال میں رہائش پزیر ہیں۔ لاک ڈاون سے پہلے گیتہ ایک ٹوریسٹ ہاسٹل میں ریسپشنسٹ کی ملازمت کررہی تھی۔ کورونا وائرس کے باعث سیاحت کا شعبہ شدید متاثر ہوا اور گیتہ کی نوکری چلی گئی ۔ گیتہ کے شوہر اوبر پر ڈیلوری بوائے کا کام کرتے ہیں اور دونوں اپنے وطن سے دور کَس مپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔”

اس طرح کی کئی کہانیاں ہیں جوتوجہ کی منتظر ہیں۔ ملک سے باہر روزگار کے غرض سے جانے والےپڑھے لکھےپروفیشنل افراد غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں۔عالمی لیبر مارکیٹ شدید بحران کا شکار ہو چکی ہے۔ انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن (آئی ایل او) کے مطابق کہ کورونا وائرس کے آغاز سے ہر 6 میں سے ایک نوجوان ملازمت سے محروم ہے۔ اسی طرح اوورسیز پاکستانیوں کی ملازمت کے حوالے سے دگر گوں صورتحال ہے۔ پاکستان اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹرز ایسوسی ایشن ) پوئیپا( کا کہنا ہے کہ کرونا کی وجہ سے دو لاکھ سے زائد پاکستان کی افرادی قوت بیرون ِ ملک نہیں جا سکی۔ بیرون ملک مقیم افراد کسی بھی ملک کا اثاثہ تصور کئے جاتے ہیں۔ا نہیں اس بحران سے جلد نکالنے کیلئے بہترین حکمت عملی اورفوری اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔ تاکہ نہ صرف بیرون ملک موجود ملازمین کی ملازمتیں محفوظ بنائی جائیں بلکہ ان میں اضافہ بھی کیا جائے۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment