ملک میں چھوٹے اور بڑے کاروبار کی جلد بحالی کے لیے فوری اقدامات بہت ضروری ہیں:ماہرین

نجی و سرکاری شعبے سے تعلق رکھنے والے ماہرین اور معاشی تجزیہ کاروں نے ملک میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کی بحالی کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے، کورونا وبا کے باعث ایس ایم ایز بری طرح متاثر ہوئیں، بہتر سہولت کاری اور استعداد سازی پر توجہ دی جائے۔

تفصیلات کے مطابق نجی و سرکاری شعبے سے تعلق رکھنے والے ماہرین اور معاشی تجزیہ کاروں کے درماین مکالمہ ہوا، ماہرین نے پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی) کے تحت ’پنجاب میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کے لیے بہتر ماحول کار‘ کے زیر عنوان مشاورتی مکالمے میں کہا کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کو کورونا وبا کے اثرات سے نکلنے میں مدد دینے کے لیے سازگار پالیسی اقدامات کی ضرورت ہے۔ صوبائی حکومتوں کو بھی اس اہم مسئلے کی جانب توجہ مبذول کرتے ہوئے فوری اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے تاکہ ایسے کاروباروں کو دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا کیا جا سکے۔

پنجاب بورڈ آف انوسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ کے ڈائریکٹر سہیل قادر نے شرکاء کو بتایا کہ ان کا ادارہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کو عالمی منڈیوں تک رسائی میں مدد دینے کے لیے ان کی استعداد سازی پر کام کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سمیڈا اور پنجاب سمال انڈسٹریز کارپوریشن کو کورونا وبا کے نتیجے میں ایس ایم ایز کو درپیش مسائل سے نمٹنے میں مدد دینے کے لیے اشتراک عمل کرنا چاہئے۔

ایس ڈی پی آئی کے جائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر وقار احمد نے اس موقع پر زور دیا کہ ایس ای سی پی ملک بھر میں ایس ایم ایز اور نئے کاروباروں کے لیے قوانین میں آسانیاں پیدا کرے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک پاکستانی بھی ملک میں سرمایہ لگانے کے محفوظ مواقع نہ ہونے کا شکوہ کرتے ہیں۔ ان حالات میں ضروری ہے کہ ایس ای سی پی سہولت کاری اور قواعد کے حوالے سے موجودہ صورتحال کا جائزہ لے کر بہتری کے لیے اقدامات کرے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وبا کے پیش نظر ایس او پیز پر عملدرآمد کاروباری لاگت میں کتنے اضافے کا باعث بن رہا ہے، اس کا جائزہ لیا جانا چاہئے۔

ویمن چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری لاہور ڈویڑن کی بانی صدر ڈاکٹر شہلا جاوید کا کہنا تھا کہ حکومت کاروباری برادری کے مسائل کو سمجھنے سے گریز کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔انہوں نے کہا کہ کورونا وبا کے عورتوں کی سرکردگی میں چلنے والے کاروباروں پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ یو ایس ایڈ کے کامران نیازی نے کورونا وبا کے ایس ایم ایز پر اثرات کے زیادہ تفصیلی جائزے کی ضرورت پر زور دیا۔

کاروباری شخصیت عمارہ فاروق ملک نے اپنی گفتگو میں کہا کہ ملک میں اب تک کورونا وبا کے سوشل انٹرپرائزز پر اثرات کا کوئی جائزہ نہیں لیا گیا۔ ایس ڈی پی آئی کے ریسرچر حسن مرتضیٰ نے ایس ایم ایز کو عالمی منڈیوں تک رسائی دینے کے لیے ان کی استعداد سازی پر زوردیا۔ قبل ازیں، سینٹر فار پرائیویٹ سیکٹر انگیج منٹ، ایس ڈی پی آئی احد نذیر کورونا وبا کے ایس ایم ایز پر اثرات کے مختلف پہلووں پر تفصیلی روشنی ڈالی ۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment