چڑیا گھروں کے جانور مر گئے اور وزارت موسمیاتی تبدیلی سیاست کرتی رہی:چیف جسٹس

اسلام آباد ہائیکورٹ نے وزارت موسمیاتی تبدیلی کو چکوال، بلکسر انتظامیہ کیساتھ ملکر 3 اگست تک ریچھوں سے متعلق فیصلہ کرنے کی ہدایت کر دی۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے چڑیا گھر سے عدالتی احکامات کے باوجود ریچھوں کی عدم منتقلی کے کیس پر سماعت کی، دوران سماعت چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریچھوں کی حفاظت کا انتظام نہ ہونے اور عدم منتقلی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بیرون ملک سے چڑیا گھروں کے لئے چالیس زرافے لائے گئے جو سب مر چکے ہیں، ہمارے سر شرم سے جھک جانے چاہئے۔

وزارت موسمیاتی تبدیلی جانوروں کیساتھ ہونے والے اس سلوک کی ذمہ دار ہے، اس سارے کیس میں وزارت موسمیاتی تبدیلی صرف سیاست کرتی رہی، اللہ کی مخلوق کو تکلیف دینے کے لئے وزارت موسمیاتی تبدیلی ذمہ دار ہے۔

ضلع چکوال، بلکسر میں قائم جانوروں کی پناہ گاہ کے منتظم ڈاکٹر فخر عدالت کے سامنے پیش ہوئے اور بتایا کہ ریچھ بلکسر سے زیادہ اسلام آباد میں محفوظ ہیں۔ بلکسر میں ریچھوں کے لئے مرغزار چڑیا گھر سے بھی چھوٹی جگہ ہے۔ عدالت نے کہا کہ بلکسر پرائیویٹ پارٹی کی جگہ ہے لیکن ریچھوں کی منتقلی سے متعلق حکومت معاونت کرے۔ سماعت تین اگست تک ملتوی کر دی گئی۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment