عید منائیں، مگر احتیاط کے ساتھ

"یہ وقت بھی گزر جائے گا‘‘۔کہتے ہیں زندگی خوش گوار اور ناخوش گوار حالات و واقعات کا مجموعہ ہے۔ وقت ایک سا نہیں رہتا، اچھے دن ہمیشہ نہیں رہتے، تو برے دن بھی گزر ہی جاتے ہیں۔ دنیا میں شاہد ہی کوئی ایسا ہو جس نے کبھی نامساعد حالات، مشکلات اور پریشانیوں کا سامنا نہ کیا ہو اور ان ہی مشکلات سے، حوصلے سے نمٹنا ہی اصل فن ہے۔ جس طرح ایک انسان مشکل اورآزمائش سے نبرد آزما ہو کر منزل مقصود تک پہنچتا ہے، بالکل اسی طرح قوموں کی پہچان بھی ان کے اجتماعی رویّوں سے ہوتی ہے اور یہ ہی چیز دوسری اقوام کی نظر میں ممتاز کرتی ہے۔تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی ہماری قوم پر کوئی مشکل وقت آن پڑا یہ قوم سیسہ پلائی دیوار ثابت ہوئی چاہے زلزلہ ہو، سیلاب ہو یا کوئی اور قدرتی آفت درپیش ہو ہمیشہ ایک صف میں پائی گئی اس میں کوئی دو رائے نہیں۔

آج بھی ہمیں ایک کٹھن وقت کا سامنا ہے ،نہ صرف ہمیں بلکہ پوری دنیا ایک مشکل کی گھڑی سے دوچار ہے۔دنیا کا ہر ملک اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے اور ایک دوسرے سے کٹ چکا ہے۔عالمی معیشت سسکیاں لے رہی ہے۔سب کا مشترکہ سامنا ’’کورونا‘‘ کی مہلک آفت سے ہے جس سے جلد ازجلد چٹکارہ حاصل کرنا سب کا اولین مقصد ہے۔ اس زمر میں اب تک احیتاط ہی اس کا واحد علاج ہے۔

دوسری جانب ملک میں عید الاضحی اس سال یکم اگست کو منائی جائے گی۔عیدالاضحی کی آمدآمد ہےجس میں ایک دو روز باقی ہیں۔جیسے جیسے عید قریب آ رہی ہے لوگوں میں روایتی جوش وخروش بھی بڑھتا جا رہا ہے۔اس عید کی آمد کے ساتھ ہی کراچی سے خیبر تک ایک گہما گہمی شروع ہو جاتی ہے۔ کیا بچہ کیا بڑا ہر کوئی جانوروں کی خریداری اور خدمت میں مصروف ہوتا ہے۔ اللہ ربّ العزت نے امت مسلمہ پر خاص احسان فرماتے ہوئے عید الفطر اور عید الاضحی جیسے خوشی کے دو مقدس تہوار عطا فرمائے ہیں، جن کے آتے ہی ہر مسلمان کے دل میں خصوصی جوش اور ولولہ پیداہوجاتا ہے۔ عید الاضحی کے دن امت مسلمہ کے مسلمان حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عظیم سنت کو  زندہ کرتے ہیں۔ اور اسلامی مہینے ذی الحج کی 10تاریخ کو عید الاضحی مذہبی عقیدت واحترام سے مناتے ہیں.ملک بھر میں مختلف مقامات پر مویشی منڈیاں لگتی ہیں، جہاں بڑی تعداد میں لوگ نہ صرف جانوروں کی خریداری کے لئے جاتے ہیں بلکہ بہت سے لوگ اپنے اہل خانہ کے ساتھ بھی منڈیوں میں جانوروں کو بھی دیکھنے جاتے ہیں۔تاہم اس مرتبہ کرونا وائرس کے پھیلاوْکے باعث صورتحال کافی مختلف ہے.عید الاضحی کی آمد ہے، دوسری جانب کورونا کے وار جاری ہیں۔ لیکن حالیہ چند ھفتوں میں اللہ پاک کے کرم سے پاکستان میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ میں ٹھہراؤ نظر آرہا ہےاوراب کیسز اور اموات کی تعداد میں کمی دیکھی جارہی ہے، جس کی ایک بڑی وجہ سمارٹ لاک ڈاون یا شاید ٹیسٹنگ کی تعداد کا کم ہونا بھی ہو سکتی ہے۔ مگریہ کمی آٹے میں نمک کے برابر ہی ہے۔

دوسری جانب وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ عید الاضحی پر ایس او پیز پر عمل درآمد نہ ہوا تو کورونا وائرس مزید پھیل سکتاہے۔ملک میں کورونا وائرس کے کیسزمیں مسلسل کمی آ رہی ہے، عید الاضحیٰ کے موقع پر عوام کو کورونا سے بچاﺅ کے لئے ضابطہ کار پر سختی سے عمل کرنے کی ضرورت ہے، ایس او پیز پر عملدرآمد جاری رکھا جائے، عیدالاضحی سادگی سے منائیجائے، ایسا نہ ہوکہ جس طرح گزشتہ عید میں ایس او پیز کو نظر انداز کیا گیا اور ہمارے ہسپتال کورونا کے مریضوں سے بھر گئے تھے۔ انہوں نے حکومت کی جانب سے طے کئے گئے ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہاکہ احتیاط نہ کی تو یہاں کیس پھر اوپر جاسکتے ہیں اور پھر لاک ڈاؤن لگانا پڑسکتاہے جس سے معیشت پر اثر پڑے گا۔

پاکستان خوش قسمتی سے ان ممالک میں شامل ہے جہاں کورونا کے مریضوں کی شرح اموات میں کمی آئی ہے۔ انتہائی نگہداشت اور وینٹی لیٹرز پر بھی مریضوں کی تعداد میں کمی آئی ہے جبکہ بد قسمتی سے ہمارے ہمسایہ ملک بھارت میں یہ شرح بہت زیادہ ہے۔ کورونا کے حوالے سے ملی جلی خبروں کا سلسلہ جاری ہے ان خبروں اور حالات کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ آگ تو بجھ گئی ہے لیکن راکھ میں دبی چنگاریاں ابھی تک سلگ رہی ہیں جو کسی بھی وقت ہوا کے کسی بے رحم جھونکے سےپھر سے بھڑگ کر آگ بن سکتی ہیں۔اگرچہ کورونا کا زور ٹوٹ چکا ہے اور اگر یہ سلسلہ اسطرح ہی جاری رہتا ہے تو اللہ کریم کے فضل وکرم سے بہت جلد ہم اس وباء پر قابو پانے میں کامیاب ہو جائیں گے اور کورونا وائرس کا مکمل طور پر خاتمہ ہو جائے گا۔لیکن یہ ابھی مکمل طور پر ختم میں ہوا یہی وجہ ہے کہ حکومتی اداروں کی طرف سے بار بار یاد دہانی کروائی جا رہی ہےکہ جس لاپرواہی کا مظاہرہ عیدالفطر کے موقع پر کیا گیا۔اس بات کا خیال نہیں کیا گیا کہ یہ وائرس ایک جگہ لوگوں کے جمع ہونے سے زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے، اس لئے عید کے موقعے پر وائرس انتہائی تیزی سے پھیلا، سب سے زیادہ افسوس ناک اور بھیانک منظر اس وقت دیکھنے میں آیا جب کورونا کے بڑھتے خدشات کے باوجود معاشی حالات کے پیش نظر حکومت کی جانب سے اچانک لاک ڈاؤن میں نرمی کی گئی۔ بازار ،مارکیٹ اور شاپنگ مالز کو مخصوص وقت تک کھول دیا گیا۔ تو دیکھنے میں افسوس ناک پہلو یہ آیا کہ یہ وہ قوم ہے جو کچھ دن پہلے تک بھوک سے نڈھال ہو چکی تھی ، بازار کھولتے جیسے ہی پروانہ ملا جان پر کھیل کر شاپنگ میں مصروف نظر آئی۔
اور ہماری جنونی عوام نے وائرس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اربوں روپے سے بھی زاہد کی خریداری کر ڈالی۔ایسا لگ رہا تھا کہ لاک ڈاؤن میں عوام کا مسئلہ روٹی نہیں صرف شاپنگ تھی۔ اور عید روایتی جوش وخروش سے منائی، مگر اس کے بعد کورونا متاثرین کی تعداد دگنے اضافے کی صورت میں سامنے آئی اور یہ سلسلہ تاحال رکا یا تھما نہیں، متعدد خاندانوں نے اپنے پیارے کھو دئیے۔ اور پھر اس کے بعد جو ہوا اس کا خمیازہ ساری قوم نے بھگتا اور ابھی تک بھگت رہے ہیں۔اس لیے خدارا احتیاط کریں، اسی وجہ سے اس عید کے موقع پر پہلے سے زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے۔

لیکن اب عید الاضحی کے قریب آتے آ تے بازاروں میں عوام کا رش بڑھ گیا ہے اور کسی قسم کی احتیاط نہیں کی جارہی۔تاجر حضرات کی جانب سے نہ حفاظتی اقدامات کیے جارہے ہیں اور نہ ہی اوقات کی پابندی۔دوسری جانب حکومت نے 5 اگست تک مارکیٹیں اور کاروباری اور تجارتی مراکز بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔دوسری جانب  تاجران پاکستان تنظیم نے حکومت کا فیصلہ مسترد کر دیا ہے جس کے باعث لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی پر کئی تاجر حضرات کو گرفتار بھی کیا گیا۔ جب کہ یہ جانتے ہو ئے بھی کہ یہ سب ہماری حفاظت کے لیے ہے، پھر اس طرح کا رویہ قابلِ افسوس ہے۔ تاجر حضرات صرف اپنی کمائی کے لیے کسی کی فکر نہیں کر رہے بلکہ الٹا کہتے ہیں کہ کورونا ورونا کچھ نہیں، جوکہ سراسر غلط بات ہے کورونا کا زور تو ٹوٹا ہے لیکن یہ ابھی تک مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ عید کے موقع پر سماجی فاصلے کا خیال نہیں رکھا گیا ، ایس او پیز کو ہنسی مذاق میں اڑایا گیا تو خطرناک نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔

خیال رہے کہ حکومت کی جانب سے عید سے قبل اسمارٹ لاک ڈاؤن کا فیصلہ کورونا سے بچاؤ کے لیے کیا گیا ہے۔ سنتِ ابراہیمی پر تو ضرور عمل کریں لیکن احتیاطی تدابیر کے ساتھ کیونکہ اکیلی حکومت کچھ نہیں کر سکتی ہے۔ اس کا ایک نظارہ مویشی منڈیوں میں بھی دیکھا جا سکتا ہے جہاں ایس او پیز کی کوئی پابندی ہے، بیوپاری اور گاہگ دونوں لاپرواہی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ انتظامیہ کی طرف سے جس حفاظتی اقدامات کا کہا جاتا ہے وہ بھی نظر نہیں آرہے۔ اس طرح شہروں کے اندر عارضی منڈیاں یا گلی کوچوں میں جانور لئے پھرنے والوں کو بھی روکا نہیں جاسکا۔بھرے بازاروں میں شاذونادر ہی کوئی ماسک پہنے نظر آتا ہے۔ بچے اور بزرگ روایتی طریقے سے ہی مویشی منڈیوں کا رخ کر رہے ہیں۔
سو اس تمام تر صورت حال میں آپ نے اپنی حفاظت کو خود یقینی بنانا ہے کیونکہ یہ نہ صرف آپکی اپنی بلکہ اپنے پیاروں اور دیگر افراد کی زندگی اور موت کا سوال ہے۔ لہذا چاہے منڈی جانا ہو،قربانی کرنی ہو یا عزیز واقارب اور ضرورت مندوں میں گوشت کی تقسیم ہو گلوز اور ماسک کا استعمال ہرگز نہ بھولیں۔اس سال ایک نہ شد دو شد کیونکہ کورونا کے ساتھ ساتھ کانگو وائرس بھی ہر سال کی طرح اس موقعے پر پھیلنے کا خدشہ ہو تا ہے، یہ وائرس جانوروں میں پایا جاتا ہے اورکورونا وائرس کی طرح ہاتھ اور ناک کے ذریعے جسم میں داخل ہوتا ہے۔اس لئے خریداری کی جگہ پر ہجوم نہ بنایا جائے ،کوئی بھی شخص بغیر ماسک اور دستانوں کے منڈی نہ داخل ہو۔ جو بھی منڈی جائے گھر آتے ہی نہائے اور کپڑے تبدیل کرے۔اسی طرح نمازِ عید کے دوران بھی نمازیوں کے درمیان فاصلہ برقرار رکھا جائے، غیر ضروری اجتماعات سے پرہیز کریں۔دوسری جانب گلی محلوں میں صفائی ستھرائی کا خاص اہتمام کیا جائے ، گلی محلوں میں قربانی کے جانورں کی باقیات نہ پھینکی جائے۔اس بات کا بھی خاص خیال رکھنے کی ضرورت ہے کہ جب کسی کے گھر سے حصہ آئے تو گوشت لینے کے فوراً بعد ہاتھوں کو اچھی طرح صابن یا ہینڈواش سے دھوئیں اور گوشت کو خوب اچھی طرح پکائیں۔

یاد رکھیں! ہم میں سے کئی ڈاکٹز صرف آپ لوگوں کی خاطر اپنے گھر والوں سے دور ہیں اور اہسپتالوں میں دن رات ایک فرائض سر انجام دیں رہے ہیں تاکہ ہمارے لوگ جلد صحت یاب ہو جائیں۔عید قرباں پر احتیاط کا اس لئے بھی زیادہ کہا جارہا ہے کہ جواں تو کورونا وائرس کا مقابلہ باآسانی کر سکتے ہیں لیکن یہی جواں اپنے بزرگوں کے لئے خطرے کی گھنٹی ثابت ہو سکتے ہیں۔ اس وجہ سے ہماری ذرا سی احتیاط بہت سی جانوں کو بچانے کا سبب بن سکتی ہے۔اس صورت حال میں ہم لوگوں پر اب دگنی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہم اپنا خیال خود رکھیں۔ زندگی رہی تو ہم سب پھر سے خوشیوں بھری اور بےفکر عید منائیں گے اور زندگی ایک بار پھر سے مسکرائے گی۔بس فی الحال یہ وبا کے دن ہیں تو اس میں احتیاط کو خود پر لازم کر لیں، ورنہ جو وبا میں ٹھہراؤ اور مریضوں کی تعداد میں کمی آئی ہے وہ پھر سے بڑھ بھی سکتی ہے۔

سو ،عید منائیں، مگر احتیاط کے ساتھ

متعلقہ خبریں

Leave a Comment