فیصل واوڈا کا نااہلی کی درخواستوں کو خارج کرنے کی استدعا

الیکشن کمیشن میں وفاقی وزیر فیصل واوڈا کے خلاف نااہلی کی درخواستوں پر سماعت ہوئی، فیصل واڈا کے وکیل نے نااہلی کی درخواستوں پر سماعت کے لیے الیکشن کمیشن کے دائرہ اختیار پر اعتراض اٹھاتے ہوئے درخواستیں خارج کرنے کی استدعا کر دی۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر آبی وسائل فیصل واوڈا کے خلاف مبینہ دوہری شہریت چھپانے اور کاغذات نامزدگی میں غلط بیانی کرنے کے معاملے پر الیکشن کمیشن میں چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں 4 رکنی کمیشن نے سماعت کی۔ درخواستگزاروں نے درخواست قابل سماعت ہونے سے متعلق جواب الیکشن کمیشن میں جمع کرا دیا۔

فیصل واڈا کے وکیل محمد بن محسن نے دلائل میں ایک بار پھر نااہلی کی درخواستوں پر سماعت سے متعلق دائرہ اختیار پر اعتراض اٹھاتے ہوئے الیکشن کمیشن سے درخواستیں خارج کرنے کی استدعا کردی۔وکیل فیصل واوڈا نے مؤقف رکھا کہ رکن قومی اسمبلی کی نااہلی کے لیے درخواست اسپیکر قومی اسمبلی کے پاس جمع کرائی جاتی ہے، درخواست براہ راست الیکشن کمیشن میں نہیں دی جا سکتی جبکہ اسپیکر کی جانب سے رکن کی نااہلی کا ریفرنس بھیجنے پر الیکشن کمیشن کاروائی کر سکتا ہے۔ کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری ہونے کے 45 دن کے اندر الیکشن ٹریبونل میں درخواست دی جا سکتی ہے،الیکشن کمیشن آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت فیصلہ دینے کا اختیار نہیں رکھتا۔

درخواستگزاروں نے فیصل واوڈا کے وکیل کی جانب سے درخواستوں کے قابل سماعت ہونے سے متعلق اعتراض کو مسترد کرنے کی استدعا کر دی جبکہ الیکشن کمیشن نے فریقین سے درخواستوں کے قابل سماعت ہونے سے متعلق مزید دلائل طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت 3 ستمبر تک ملتوی کردی۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment