وزیر اعظم کے بیوروکریسی کی سمت درست کرنے کے لئے سخت فیصلے

وزیر اعظم کے بیوروکریسی کی سمت درست کرنے کے لئے سخت فیصلے، پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس اور پولیس سروس آف پاکستان کے افسران کی تقرریوں کے لئے نئی روٹیشن پالیسی کی منظوری دے دی۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس اور پولیس سروس آف پاکستان کے افسران کی تقرریوں کے لئے نئی روٹیشن پالیسی کی منظوری دے دی، روٹیشن پالیسی 2020 یکم جنوری 2021 سے نافذ ہو گی، حکومت نے روٹیشن پالیسی میں خامی سے فائدہ اٹھا کر لمبے عرصے تک ایک ہی صوبے یا اسٹیشن پر تعیناتی کرانے والے افسروں کو راستہ بند کر دیا۔

نئی روٹیشن پالیسی میں پاس اور پی ایس پی افسروں کی ترقی روٹیشن پالیسی پر عمل درآمد سے مشروط کر دی، دونوں آل پاکستان سروس افسروں پر ویڈ لاک پالیسی کا اطلاق ختم کر دیا، روٹیشن پالیسی 2000 میں خامیوں کو دور کر کے روٹیشن پالیسی 2020 لاگو کر دی گئی، آل پاکستان سروسز کے خواتین و مرد افسران کو دیگر کیڈر کی طرز پر روٹیشن کے مطابق تعیناتی سے استثنٰی حاصل نہیں ہو گا۔

نئی روٹیشن پالیسی میں سپیشلائز ٹریننگ مکمل کرنے کے بعد افسروں کو اپنے صوبے سے باہر تعینات کیا جائے گا،ایک ہی جغرافیائی حدود میں لمبی پوسٹنگ لینے والے افسروں کو افسروں کی قلت کے شکار صوبے میں تعینات کیا جائے گا، گریڈ 17 سے 19 کے دوران مرد افسروں کی ہارڈ ایریا میں دو سال کے لئے تعیناتی لازمی قرار، 2020 سے سی ایس ایس کے ذریعے آل سروس میں آنے والے مرد افسروں کو گریڈ 18 میں ترقی تک یا 5 سال تک صوبے سے ٹرانسفر نہیں کیا جائے گا۔

روٹیشن پالیسی میں خواتین افسران کے لئے سروس کے پہلے تین سال تک یا گریڈ اٹھارہ میں ترقی ہونے تک ایک ہی صوبےمیں سروس لازمی قرار دے دیا گیا، گریڈ 22 اور گریڈ 21 کے افسروں کو صوبوں کی ضرورت کے مطابق ٹرانسفر کیا جائے گا، کسی مخصوص صوبے میں وفاق کے ادارے میں تعیناتی کو اسی صوبے کی سروس میں شمار کیا جائے گا،افسران کی روٹیشن پالیسی کے مطابق تقرری کا ریکارڈ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن سال میں دو مرتبہ جنوری اور جولائی میں مرتب کرے گا۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment