بھارت میں 11 پاکستانی ہندو مہاجرین کی پراسرار موت

بھارتی شہر جودھ پور میں 11 پاکستانی ہندو مہاجرین کی پراسرار موت، پاکستان ہندو کونسل نے بھارتی حکومت کو ذمہ دار قرار دے دیا۔

کراچی : پاکستان ہندو کونسل نے بھارتی شہر جودھ پور میں گیارہ پاکستانی ہندو تارکین وطن کی پراسرار موت کو سخت افسوسناک قرار دیا ہے، پاکستان ہندو کونسل کے سرپرست اعلیٰ ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی نے اپنے ہنگامی بیان میں حکومت پاکستان سے اس اندوہناک واقعے کو عالمی سطح پر اٹھانے کا مطالبہ کیا ہے۔

ڈاکٹر رمیش وانکوانی کا کہنا تھا کہ یہ معصوم پاکستانی ہندو خاندان آٹھ سال قبل 2012ء میں سندھ سے بھارت اچھے مستقبل کی امید میں نقل مکانی کرگیا تھا لیکن افسوس، بھارت میں انہیں بے رحم حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا، اس حوالے سے پاکستان ہندو کونسل کو دستیاب معلومات کے مطابق متاثرہ خاندان کا تعلق سندھ کے ڈسٹرکٹ سانگھڑ کے علاقے شہدادپور سے ملحقہ گاؤں لنڈو کی بھیل کمیونٹی سے ہے، اس خاندان کی ایک بچی سندھیانی عوامی تحریک سے منسلک تھی، اسکی سماجی سرگرمیوں کی بناء پر کچھ تنازعات بھی کھڑے ہوئے، بعد ازاں یہ ہندو خاندان 2012ء میں بھارت نقل مکانی کرگیا، بھارت پہنچنے کے بعد اس گھرانے کی دو بچیوں نے بطور ہیلتھ ورکر کام کیا، تاہم بھارتی شہریت کا متلاشی یہ خاندان وہاں بھی اپنے خاندانی تنازعات سے چھٹکارا نہ پاسکا اور آخرکار پراسرار حالات میں اس دنیا سے رخصت ہوگیا۔

ڈاکٹر رمیش کمار نے موقف اختیار کیا ہے کہ چاہے ان پاکستانیوں کو قتل کیا گیا یا انہوں نے اجتماعی خودکشی کی، اس افسوسناک حادثے کی ذمہ داری بھارتی حکومت پر عائد ہوتی ہے، ڈاکٹر رمیش کمار نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ بھارت کے متنازع شہریت قانون نے سیکولر ازم پر سوالیہ نشان لگا دیاہے، پاکستانی محب وطن ہندو کمیونٹی کیلئے پاکستان دھرتی ماتا کا درجہ رکھتا ہے، جودھ پور کے حالیہ افسوسناک سانحہ سے ان تمام عناصر کو سبق حاصل کرنا چاہیے جو اپنے مسائل کے حل کیلئے بھارت اور دوسرے ممالک کی جانب دیکھتے ہیں۔

پاکستان ہندو کونسل نے حکومت پاکستان اور نئی دہلی میں پاکستانی سفارت خانے سے بھی اس سانحہ کی وجوہات معلوم کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے تاکہ بھارت سے پوچھا جاسکے کہ گزشتہ آٹھ برسوں سے بھارتی سرزمین پر موجود پاکستانی شہریوں کا تحفظ یقینی کیوں نہیں بنایا جاسکا۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment