چوبیس ہزار ارب روپے کے قرضے،انکوائری کمیشن کا خزانے کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف کاروائی کی سفارش

ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ چوبیس ہزار ارب روپے کے قرض کی تحقیقات کا معاملہ، وزیراعظم آفس نے انکوائری رپورٹ قرضہ انکوائری کمیشن کو واپس بھجوادی۔

ذرائع کے مطابق چوبیس ہزار ارب روپے کے قرض کی انکوائری رپورٹ قرضہ انکوائری کمیشن کو واپس بھجوادی۔ وزیراعظم آفس نے انکوائری رپورٹ سے متعلق مزید سوالات اور ہدایات جاری کیں۔

وزیراعظم نے مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر کو خصوصی ٹاسک بھی سونپ دیا۔ انہوں نے کہا کہ انکوائری رپورٹ کی بنیاد پر نیب تحقیقات اور ذمہ داران کے خلاف کاروائی کرے۔

ذرائع کے مطابق رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2008سے 2018کے دوران ترقیاتی منصوبوں میں ایک ہزار ارب روپے سےزائد نقصان ہوا۔ اورنج لائن ٹرین،بی آرٹی پشاور بس سمیت 1ہزار سے زائد منصوبوں کی انکوائری کی گئی۔اکنامک افئیر ڈویژن، وزارت خزانہ سمیت مختلف اعلی حکام پر ذمہ داری عائد کی گئی ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ کئی منصوبو ں میں اختیارات کے ناجائز استعمال،کک بیکس کی نشاندہی بھی کی گئی۔انکوائری کمیشن نے قومی خزانے کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف کاروائی کی سفارش کی ہے۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment