پاکستان کا نیا نقشہ تقسیمِ برصغیر کے تحت واضح کیا : شاہ محمود قریشی

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ جموں و کشمیر کی گھمبیر صورتحال اقوام متحدہ کے منتخب صدر جنرل اسمبلی کے سامنے رکھی ہے، جبکہ وزیراعظم نے بھی ملاقات میں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر تفصیلی آگاہ کیا ہے۔

دفتر خارجہ میں اقوام متحدہ جنرل اسمبلی 75ویں اجلاس کے صدر وولکن بوزکر کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہم نے اقوام متحدہ کے نو منتخب صدر جنرل اسمبلی کو مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال اور اس حوالے سے پاکستانی قوم کے جذبات سے آگاہ کیا ہے، اور صدر جنرل اسمبلی نے تسلیم کیا ہے کہ جموں و کشمیر تنازعہ کا حل بہت اہم ہے۔ پاکستان کے سیاسی نقشہ کا اجراء پاکستانی عوام کے جذبات کی عکاسی ہے۔ نقشہ نے سرکریک سیاچن جوناگڑھ کشمیر اور دیگر امور کو تقسیمِ برصغیر کے تحت واضح کیا ہے۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ کک جنرل اسمبلی کے صدر وولکن بوزکر نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ او آئی سی اور کئی اہم عالمی تنظیموں کا اہم اور متحرک رکن ہے۔ وزیراعظم کے ساتھ ملاقات انتہائی اہم رہی۔ ترکی اور پاکستان دونوں اقوام متحدہ کو مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں ۔ وولکن بوزکر نے کہا کہ جموں و کشمیر کے حوالے سے ترکی کا مؤقف بہت واضح ہے۔

وزیر خارجہ نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کویڈ 19 کی ویکسین سستی اور معیاری ہونی چاہیے اور سب تک اسکی رسائی ہونی چاہیے، جبکہ وولکن بوزکر نے کہا کہ پاکستان نے کرونا وباء سے مؤثر انداز میں نمٹا ہے اور اب جنرل اسمبلی کو بھی اپنے معاملات بحال کرنے چاہئیں۔ اقوام متحدہ کو فعال رکھنا ہو گا ورنہ اس پر سے لوگوں کا اعتماد ختم ہو جائے گا۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment