کراچی کے نالوں کی صفائی۔۔ حکومت سندھ کو ناکامی کا سامنا

Supreme Court of Pakistan - Karachi Registry

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں کراچی کے نالوں کی صفائی سے متعلق کیس میں نے چیف جسٹس کی سربراہی میں قائم بینچ نے کراچی کے نالوں کی صفائی کا کام نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کی بجائے حکومت سندھ کو دینے کی درخواست مسترد کردی۔ حکومت سندھ کی درخواست مسترد کرتے ہوئے معزز عدالت نے ریمارکس دیے کہ این ڈی ایم اے جاپان نہیں پاکستان کا ہی ادارہ ہے۔
واضح رہے گزشتہ روز سپریم کورٹ رجسٹری میں سماعت کے دوران معزز بینچ نے این ڈی ایم اے کو کراچی کے تمام نالوں کی صفائی کا کام تفویض کرتے ہوئے 3 ماہ کے عرصے میں تجاوزارت کے خاتمے کی ہدایت کردی تھی۔
آج چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں بینچ نے ایک بار پھر نالوں کی صفائی کے کیس کی سماعت کی۔ اس موقع پر ایڈووکیٹ جنرل سندھ سلمان طالب الدین نے حکومت سندھ کی جانب سے 3 اگست تک نالوں کی صفائی سے متعلق رپورٹ پیش کی۔ انہوں نے عدالت کو آگاہ کیا کہ کراچی میں 514 چھوٹے نالے ہیں، جبکہ بڑے نالوں میں سے 3 نالے، گجر، مواچھ گوٹھ اور سی بی ایم نالا این ڈی ایم اے کے پاس ہیں۔ انہوں نے تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ گجر نالے پر 50 اور دیگر پر 20 سے 25 فیصد کام کر دیا گیا تھا۔
اس موقع پر چیف جسٹس نے سوال کیا کہ اگر نالوں کی صفائی ہو کی جا رہی ہے تو پانی کیسے بھر گیا۔ چیف جسٹس نے مزید کہا کہ کیا ایسے ہی کام ہوا تھا جیسے اور جگہوں پر ہوتا ہے؟ اس پر ایڈووکیٹ جنرل نے بتایا کہ نالوں کی صفائی کا کام ورلڈ بینک کے پیسوں سے ہو رہا ہے۔ انہوں نے مزید آگاہ کیا کہ وزیراعلیٰ سندھ خود نالوں کی صفائی کے کام کی نگرانی ک رہے ہیں۔ اس موقع پر چیف جسٹس نے دریافت کیا کہ اگر حکومت سندھ نالوں کی صفائی کر رہی تھی تو پھر این ڈی ایم اے کیوں آئی، جس پر ایڈووکیٹ جنرل نے لا علمی کا اظہار کر دیا۔
ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت سے نالوں کی صفائی کے لیے 30 اگست تک کا وقت دئیے جانے کی استدعا کی ، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ یہاں نالوں کی صفائی کی تصاویر پیش کر کے کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ 2 نالوں کی صفائی کی تصاویر دکھا کر کہتے ہیں کراچی صاف کردیا۔
اس موقع پر بیچ کے دوسرے رکن جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ جو تصویر آپ دکھا رہے ہیں، ایسا نیلا پانی تو شاید سمندر میں بھی نہ ہو۔ اگر این ڈی ایم اے نالے صاف کردیتا ہے تو آپ کو کیا مسئلہ ہے؟ یہ جاپان نہیں پاکستان کا ہی ادارہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کیا آپ چاہتے ہیں ہم این ڈی ایم اے کو کام کرنے سے روک دیں۔
بعد ازاں عدالت نے نالوں کی صفائی این ڈی ایم اے کے بجائے حکومت سندھ کو دینے کی ایڈووکیٹ جنرل سندھ کی زبانی استدعا مسترد کردی۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment