گیس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس کیس؛ گیس کمپنیوں کو بڑا دھچکا لگ گیا

سپریم کورٹ نے گیس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس (جی آئی ڈی سی) کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا۔

تفصیلات کے مطابق 78 صفحات پر مشتمل فیصلہ جسٹس فیصل عرب نے تحریر کیا ہے۔ فیصلہ دو ایک کی اکثریت سے سنایا گیا ہے، جبکہ جسٹس منصور علی شاہ نے اختلافی نوٹ تحریر کیا ہے۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ جی آئی ڈی سی ایکٹ 2015 کا مقصد گیس کی درآمد کیلئے سہولت دینا تھا۔جی آئی ڈی سی کے تحت نافذ کی گئی لیوی آئین کے مطابق ہے۔

عدالت نے حکومت کو سیس بقایاجات کی وصولی تک مزید سیس عائد کرنے سے روک دیا۔

تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ سال 2020-21 کیلئے گیس قیمت کا تعین کرتے وقت اوگرا سیس کو مدنظر نہیں رکھ سکتا۔ تمام کمپنیوں سے 31 اگست 2020 تک کی واجب الادا رقم 24 اقساط میں وصول کی جائیں۔ عدالت نے حکومت کو شمال جنوبی پائپ لائن منصوبہ پر کام چھ ماہ میں شروع کرنے کا حکم دیا ہے۔ تاپی منصوبہ پاکستانی سرحد تک پہنچتے ہی اس پر فوری کام شروع کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔

جسٹس منصور علی شاہ نے اختلافی نوٹ میں لکھا ہے کہ حکومتی آرڈیننس غیر آئینی اور غیر قانونی ہے۔ جی آئی ڈی سی ایک فیس ہے،ٹیکس نہیں۔ جی آئی ڈی سی کو منی بل کے طور پر پاس نہیں کرا یا جا سکتا۔ حکومت جی آئی ڈی سی پر عملدرآمد کیلئے مکمل قانون سازی کرے۔ چھ ماہ کے اندر قانون سازی نہ کی گئی تو رقم کمپینوں کو واپس کر دی جائے۔ قدرتی گیس کی قلت اور طلب کے درمیان خلا کو پر کرنے کی ضرورت ہے۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment