اسلام آباد ہائی کورٹ نے پارک ویو ہاؤسنگ سوسائٹی پر بڑی پابندی عائد کر دی

اسلام آباد ہائیکورٹ نے پارک ویو ہاؤسنگ سوسائٹی کے خلاف کیس پر سماعت کی۔

چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے پارک ویو ہاؤسنگ سوسائٹی میں تعمیرات پر پابندی عائد کر دی ہے۔ ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کو پارک ویو ہاوسنگ سوسائٹی میں تعمیرات پر پابندی یقینی بنانے کا حکم دیا ہے۔عدالت نے کہا کہ ماسٹر پلان میں زون 4 میں ہاؤسنگ سوسائٹی کی اجازت نہیں تھی تو پھر کیوں اجازت دی؟ جس پر سی ڈی اے نے کہا کہ سپریم کورٹ کے احکامات پر ماسٹر پلان میں ترامیم کرکے ہاوسنگ سوسائٹی کو اجازت دی۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ممبر سی ڈی اے صاحب آپ مجھے بتائیں کہ سوسائٹی کو این او سی کیوں دیا گیا؟ اسلام آباد ہائیکورٹ نے پارک ویو ہاوسنگ سوسائٹی کو این او سی جاری کرنے کا مکمل ریکارڈ طلب کرلیا ہے۔

چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے سی ڈی اے کے نمائندے سے استفسار کیا کہ مجھے ماسٹر پلان میں سڑک دکھائیں جو آپ نے لکھا ہے کہ ماسٹر پلان میں ہے؟ زون فور میں سوسائٹی کا این او سی کیسے دے دیا گیا؟ حساس انوائرمنٹل علاقے میں سوسائٹی کو انوائرمنٹل پراٹیکشن ایجنسی سے رائے لئے بغیر اجازت کیسے دی گئی؟ پہاڑوں اور جنگل والے علاقے میں سوسائٹی بنانے کی اجازت کیسے دے دی گئی؟ ماسٹر پلان میں روڈ نہیں ہے۔ سی ڈی اے نے مس ریپریزنٹ کر کے این او سی دیا ہے؟ پہلے ماسٹر پلان میں زون 4 میں کیا تھا ؟

چیف جسٹس نے کہا کہ یہ سی ڈی اے حکام کی صرف نااہلی نہیں بلکہ مجرمانہ نااہلی ہے۔ سی ڈی اے نے اسلام آباد کی تباہی کا لائسنس جاری کیا۔ زون 4 تاحال نوٹیفائیڈ نیشنل پارک ایریا ہے۔ تباہی کا ذمہ دار سی ڈی اے ہے۔

بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت 7 ستمبر تک ملتوی کر دی۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment