بیلاروس میں احتجاج کے پیچھے کون ہے۔۔ روس نے بتا دیا

روس کا کہنا ہے کہ بیرونی طاقتیں بیلاروس کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

روس کے حکام نے جمعرات کے روز کہا ہے کہ ھمیں بیلاروس کی صورتحال سے تشویش ہے۔توار کو ہونے والے انتخابات کے بعد بیرونی قوتوں کی مداخلت اور ملک کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔

روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریہ زاخارووا نے کہا ، "ہم غیر معمولی دباؤ کو نوٹ کرتے ہیں جو بیلاروس کے حکام پر انفرادی غیر ملکی شراکت داروں کے ذریعہ برپا کیا جاتا ہے۔”انہوں نے ایک بریفنگ میں صحافیوں کو بتایا ، "ہم ایک خودمختار ریاست کے داخلی معاملات میں بیرونی مداخلت سے معاشرے میں عدم استحکام پیدا کرنے اور صورتحال کو غیر مستحکم کرنے کی واضح کوششیں دیکھ رہے ہیں ۔”

صدر لوکاشینکو کے خلاف انتخابات میں دھاندلی کرنے پر لگاتار پانچویں دن ہزاروں افراد نے انسانی زنجیریں بنائیں اور شہر منسک کی گلیوں میں مارچ کی۔ مظاہرین نے اتوار کے روز ہونے والے صدارتی انتخابات میں صدر الیگزینڈر لوکاشینکو کے 26 سالہ طویل حکمرانی میں توسیع کے لئے دھاندلی کا الزام لگایا ہے۔ صدر لوکاشینکو نے بھی ملک کو غیر مستحکم کرنے کے سازش کا الزام عائد کرتے ہوئے مظاہرین کو بیرونی سازش کا حصہ بننے والے مجرم اور بے روزگار قرار دیا ہے۔

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق یورپی یونین بیلا روس میں انتخابی نتائج کے خلاف مظاہرہ کرنے والے افراد پر قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کی جانب سے تشدد کے باعث بیلاروس پر پابندیاں عائد کرنے پر غور کر رہی ہے۔ اتوار کو ہونے والے انتخابات کے ابتدائی نتائج کے مطابق بیلا روس کے موجودہ صدر الیگزینڈر لوکاشینکو نے 80 فیصد ووٹ حاصل کیے تھے۔

یاد رہے کہ الیگزینڈر لوکاشینکو 1994 سے اس عہدے پر براجمان ہیں اور انھیں اکثر اوقات ‘یورپ کا آخری ڈکٹیٹر’ بھی کہا جاتا ہے۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment