علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے جیلوں میں تعلیمی کلچرکے فروغ کے لئے اقدامات

اسلام آباد : علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ضیاء القیوم نے کہا ہے کہ اوپن یونیورسٹی کے "جیل ایجوکیشن” منصوبے کااز سر نو جائزہ لیتے ہوئے ملک بھر کی جیلوں میں "تعلیمی کلچر”کے فروغ اور مقید افراد کو معاشرے کے لئے مفید شہری بنانے کے لئے تعلیمی خدمات کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے جیلوں میں لائبریریوں کے قیام اور انہیں کتب فراہم کی جا رہی ہیں۔ ابتدائی طور پر 12 جیلوں کو کتابیں فراہم کردی گئی ہیں جن میں چاروں صوبوں کی دو دو جیل شامل ہیں۔

واضح رہے کہ جیل ایجوکیشن منصوبے پر عمل درآمد جیل حکام کے تعاون سے وفاقی محتسب کی فراہم کردہ ہدایات کے مطابق کیا جارہا ہے۔

ڈاکٹر ضیاء القیوم کے مطابق "جیلوں میں مقید افرادکے لئے مفت تعلیمی منصوبے”کا بنیادی مقصد زیادہ سے زیادہ قیدیوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرناہے تاکہ سزا مکمل ہونے کے بعد وہ پُر امن شہریوں کی حیثیت سے باعزت زندگی گزار سکیں اور معاشرے کے لئے مفید شہری بن سکیں۔

اس منصوبے کے تحت قیدیوں کو رواں سمسٹر(خزاں 2020ء )کے داخلہ فارم اور پراسپکٹس جیلوں کے اندر ہی مفت فراہم کردئیے گئے ہیں اور انکے لئے تدریسی ورکشاپس ٹیوٹوریل میٹنگز اور فائنل امتحانات بھی جیلوں کی حدود ہی میں منعقد کئے جائیں گے۔

ڈاکٹر ضیاء القیوم نے مزید بتایا کہ قیدیوں کے لئے ابتدائی سے اعلیٰ سطح تک تعلیمی پروگرامز کے ساتھ ساتھ مختلف پیشہ ورانہ کورسسز میں بھی مفت داخلے فراہم کئے گئے ہیں جبکہ خواتین قیدیوں کے لئے ووکیشنل/پیشہ ورانہ تعلیم حاصل کرنے کے مواقع فراہم کئے جائیں گے۔

ڈاکٹر ضیاء القیوم نے مزید بتایا کہ منصوبے کو مزید موثر بنانے کے لئے جیل سپرنٹنڈنٹس کو رابطہ کار مقرر کردئیے گئے ہیں اور ہر سمسٹر میں انہیں مناسب معاوضہ بھی دیا جارہا ہے۔ جیلوں میں قیدیوں کے لئے جو اساتذہ متعین کئے جاتے ہیں وہ رابطہ کار کے اسسٹنٹ کے طور پر کام کرتے ہیں اور امتحانات کے دوران وہ سینٹر سپرنٹنڈنٹ کے طور پر بھی خدمات انجا م دیتے ہیں۔

یونیورسٹی کے فوکل پرسن ڈاکٹر زائد مجید کے مطابق جیلوں کو ارسال کرنے والے تمام داخلہ فارمز پر "صرف قیدیوں کے لئے”کی مہر لگائی گئی ہے۔

Leave a Comment