پاکستان میں انسانی سمگلر پھر فعال ہو گئے

 

پاکستان میں انسانی سمگلر کورونا وائرس کی پابندیاں نرم ہونے کے بعد ایک دفعہ پھر فعال ہو گئے۔ بلوچستان کے راستے ایران اور  یورپ جانے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو گیا ہے۔
دنیا بھر میں کوروناوائرس کی وبا پھیلنے کے بعد بیشتر ممالک نے سفری پابندیاں عائد کر دی تھیں جس کے بعد انسانی سمگلروں نے اپنی حرکات وسکنات بھی محدود کر دیں تھیں۔ اب جبکہ دنیا بھر میں کورونا وائرس پر جزوی کنٹرول کے بعد سفری پابندیاں بھی نرمی ہوئیں تو انسانی سمگلنگ کا دھندہ بھی پھر عروج پر پہنچ گیا ہے۔
صوبہ بلوچستان کے ضلع خاران کے ڈپٹی کمشنر عبدالسلام اچکزئی نے بتایا کہ فرنٹیر کور ساؤتھ بلوچستان کے عملے نے خاران کے علاقے پتکن کے مقام پر انسانی اسمگلنگ کی کوشش کو ناکام بناتے ہوئے غیر قانونی طور ایران کے راستے یورپ جانے والے 99 افراد کو ٹرک سمیت تحویل میں لیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر عبدالسلام اچکزئی کے مطابق حراست میں لیے گئے افراد کا تعلق پنجاب اور کے پی سے ہے، ان میں کم عمر بچے بھی شامل ہیں، پکڑے جانے والے افراد کو ایف آئی اے کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
یاد رہے خاران میں رواں ہفتے غیر قانونی طور پر یورپ جانے والے لوگوں کے خلاف یہ دوسری بڑی کارروائی ہے۔ اس سے قبل کوئٹہ سے غیر قانونی طور پر یورپ جانے والے 188 افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔
اقوام متحدہ کی مائیگریشن ایجنسی آئی او ایم کی رپورٹ برائے 2019 کے مطابق پاکستان میں انسانی سمگلنگ کا سب سے عام اور معروف زمینی راستے کو ‘ایسٹرن میڈیٹرینئن روٹ’ کہا جاتا ہے جسے زیادہ تر پاکستان انسانی سمگلر یورپ تک جانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
یہ روٹ افغانستان، پاکستان، ایران، ترکی اور یونان کو جوڑتا ہے۔ یورپ جانے کے خواہشمند بیشتر پاکستانی افراد دھوکہ دہی سے حاصل کردہ جعلی دستاویزات، بعض اوقات حقیقی دستاویزات اور چند مقامات پر چھپ چھپا کر سفر کرتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment