انصاف کی شاخوں سے توقع تو نہیں ہے…..

”انصاف کی شاخوں سے توقع تو نہیں

آپ کہتے ہیں تو زنجیر ہلادیتا ہوں“

”اسی زنجیر کو ہلانے کی ایک صورت میں یہ کالم لکھا جارہا ہے اس کیس کو سننے اور جاننے کے بعد مجھے فیض احمد فیض کی یہ مشہور نظم یاد آگئی
”جس دیس کی کورٹ کچہری میں انصاف ٹکوں پر بکتا ہو
جس دیس کا منشی قاضی بھی مجرم سے پوچھ کے لکھتا ہو
جس دیس کے عہدے داروں سے عہدے نہ سنبھالے جاتے ہوں
جس دیس کے سادہ لوح انسان وعدوں پر ٹالے جاتے ہوں
اس دیس کے ہر اک لیڈر پر سوال اٹھانا واجب ہے“
اسی سوال کو اٹھانے اور انصاف کی زنجیر ہلانے کے ریلوے اسٹیشن ماسٹر حافظ عبدالرّٰحمٰن نے اپنا مدعا بیان کیا جو ہر فورم پر آواز اٹھانے کے باوجود ناکامی کا سامنا کرچکے ہیں ہمارے ملک میں کرپشن کا جن ویسے ہی بے قابو ہے اور اگر غلطی سے کوئی ایماندار شخص عہدہ پر آجائے اور ایمانداری سے اپنے فرائض کی انجام دہی کرے تو ان اداروں میں موجود آستین کے سانپ وقتًا وفوقتًا مختلف انداز سے ڈستے رہتے ہیں تاکہ کرپشن کا زہر ایمانداروں میں بھی سرایت کر جائے اور بہتی گنگا میں سب ہی ہاتھ دھونے لگ جاتے ہیں یا پھر انسان خود تنگ آکر میدان عمل چھوڑ دے اور اپنی عافیت طلبی میں لگ جائے.
ایسی ہی کچھ صورتحال کا سامنا اسٹیشن ماسٹر پاکستان ریلوے حافظ عبد الرّٰحمٰن کو کرنا پڑ رہا ہے جنہوں نے ریلوے ڈویژن راولپنڈی میں ایک میگا کرپشن سکینڈل پوائنٹ آؤٹ کیا۔گھوسٹ ملازم کی بوگس تنخواہ چارج کرنے کی بابت قومی ادارے کو لاکھوں کا نقصان پہنچایا گیا. جس کی تفصیل کچھ یُوں ہے کہ پاکستان ریلوے راولپنڈی ڈویژن کے شعبہ ٹریفک میں گھوسٹ ملازم محمد منیر ولد خدا بخش پوائنٹس مین (کانٹے والا) ایمپلائی نمبر2858031 کی عرصہ نو دس سال سے بوگس تنخواہ پہلے کھیوڑہ ریلوے اسٹیشن پہ پھر لالہ موسٰی میں باقاعدگی سے چارج کروائی جاتی رہی ہے اس میگا کرپشن سکینڈل کی پاداش میں قومی خزانے کو لاکھوں کروڑوں کا نقصان ہوا۔ میگا کرپشن سکینڈل میں کئی ریلوے افسران براہِ راست ملوث ہیں باوجود نشاندہی کے یہ حال ہے کہ
؎ کیسا انصاف کیسی داد رسی
اس نے فریاد کو سنی ہی نہیں
کے مصداق اس گھوسٹ ملازم کو پروموٹ کرکے بطور شٹنگ پورٹر لالہ موسٰی تعینات کر دیا گیا. اس کرپشن سکینڈل کے مرکزی ملزم سابق ٹریفک انسپکٹر پاکستان ریلوے ملکوال اور حال تعینات ACM-II لاہور کی طرف سے بوگس حاضری مہیا کی جاتی رہی جس پہ گھوسٹ ملازم کی بوگس تنخواہ چارج ہوتی رہی. حافظ عبد الرّٰحمٰن اسٹیشن ماسٹر نے اپنے تحریری بیان کے ساتھ چیف جسٹس آف سپریم کورٹ, ڈی جی اینٹی کرپشن اور ڈی جی ایف آئی اے اور متعلقہ اداروں سے اپیل بھی کی کہ کرپٹ سابقہ ریلوے انسپکٹر ملکوال حال تعینات ACM-II لاہور کے خلاف نہ صرف اعلٰی سطح کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کروائی جائیں بلکہ کلپرٹس کو قرار واقعی سزا دے کر قومی خزانے کو جو نقصان پہنچا پیسے ان سے وصول کیے جائیں.بشمول پرنٹ و سوشل و الیکٹرانک میڈیا, پولیس ,نیب,ایف آئی اے اور اینٹی کرپشن کے ہر فورم پر رجوع کیا,سوموٹو کے لیے چیف جسٹس آف پاکستان کو خط لکھا, ایچ آر ونگ سپریم کورٹ کو خط لکھا مگر کوئی ررعمل یا مثبت کاروائی نظر نہیں آئی, نیب راولپنڈی کو ریلوے افسران نے باہمی ملی بھگت سے کلپرٹس کو بچانے کیلئے کہ یہ کرپشن سیکنڈل 50لاکھ سے کم ہے لہذا آپ اس کی براہ راست تفتیش نہیں کر سکتے آپ اسے سیکرٹری ریلوے کو Refer کر دیں جس پہ Nab نے سیکرٹری ریلوے کو تحقیقات کیلئے تفویض کیا. سائل نے FIA ڈائریکٹر لاہور سے رجوع کیا تو انہوں نے درخواست تھانہ رحمانیہ گجرات میں تعینات انسپکٹر زاہد فاروق کو مارک کی جو کچھوے کی چال کی مزاج پر تحقیق کر رہا ہے جو دو سال گزر جانے کے باوجود تاحال کوئی حتمی نتائج سامنے نہ لاسکا,
گرچہ یہ اسکینڈل لگ بھگ 200 لوکل ,نیشنل اور انٹرنیشنل اخبارات میں خبری صورت میں چھپ چکا ہے مگر انصاف تو دور کی بات کرپٹ مافیا اسٹیشن ماسٹر حافظ عبدالرّٰحمٰن کی جان کے دشمن بن گئے اور 7فروری 2019 کو ملکوال ریلوے اسٹیشن پر سابق ٹریفک انسپکٹر ملکوال غلام عباس حال تعینات ACM-II کی معاونت اور مشاورت سے ناصر علی اسٹیشن ماسٹر پکھووال کے ذریعے قاتلانہ حملہ کروایا گیا جس کی FIR تھانہ لالہ موسیٰ میں درج ہوئ۔ FIR میں نامزد مرکزی ملزم ناصر علی اسٹیشن ماسٹر پکھووال کو سابقہ اسسٹنٹ ٹرانسپورٹیشن آفیسر سرگودھا اور حال تعینات اسسٹنٹ ٹرانسپورٹیشن آفیسر لاہور مرضیہ زہرٰی نے اختیارات کا غلط استعمال کرتے ہوئے اسکیل نمبر 13سے سکیل نمبر 16 میں 50 لوگوں کو Superceed کرتے ہوۓ تقرری کر دی جس کا وہ قطعاً اہل نہیں۔الزام علیہا مرضیہ زہرٰی بطور اسسٹنٹ ٹرانسپورٹیشن آفیسر سرگودھا FIR میں نامزد مرکزی ملزم غلام عباس سابق ٹریفک انسپکٹر ملکوال حال تعینات ACM-II لاہور کے ساتھ ملکر نہ صرف گھوسٹ ملازم کی بوگس تنخواہ چارج کرواتی رہی بلکہ مذکورہ ملزم کے ساتھ ملکر بوگس انسپکشنز کی مد میں بوگس ٹی اے ڈے Claim کرتی رہی جو لاکھوں میں بنتا ہے
حافظ عبدالرّٰحمٰن پر کرپٹ مافیا نے نہ صرف قاتلانہ حملہ کروایا بلکہ بدستور جان سے مارنے کی دھمکیاں موصول ہورہی ہیں.مجھے کسی بھی قسم کے جانی و مالی نقصان کی صورت میں ڈویژنل انتظامیہ راولپنڈی ذمہ دار ہو گی.
کرپشن سکینڈل پوائنٹ آؤٹ کرنے کی پاداش میں سابقہ اسسٹنٹ ٹرانسپورٹیشن آفیسر سرگودھا حال تعینات اسسٹنٹ ٹرانسپورٹیشن آفیسر لاہور مرضیہ زہرٰی نے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے ایک ماہ میں 15 مختلف اسٹیشنوں پہ تبادلے کۓ. اور فروری 2019 کی تنخواہ رُکوا دی جو تاحال نہیں ملی اور ستمبر2019 کی تنخواہ سے غیر قانونی طور پہ مبلغ 10 ہزار روپے کٹوا دیے. اور سنیارٹی لسٹ میں پروموشن کیلیے پہلا نمبر ہونے کے اور ڈھیروں آسامیاں خالی ہونے کے باوجود دو سال سے پروموشن بھی نہیں ہونے دی جارہی ہے اسٹیشن ماسٹر حافظ عبدالرحمٰن کا منہ بند کروانے اور کیس واپس لینے پر مجبور کرنے و کرپشن اسکینڈل کی پیروی چھوڑنے کیلئے بدستور قتل کی دھمکیاں دی جارہی ہیں
سوال یہ ہے کہ کیا اداروں میں موجود کالی بھیڑوں کو بےنقاب کرنا جرم ہے؟ انصاف کب تک کرپشن کے در پر ماتھا ٹیکے گا؟ سچ اور انصاف کا خواب کب تک شرمندہ تعبیر نہ ہوگا ؟ آخر کب تک …؟؟ ؎
انصاف سیم و زر کی تجلی نے ڈس لیا
ہر جرم احتیاجِ سزا سے گزر گیا
(نوٹ) FIR میں نامزد مرکزی ملزم ناصر علی کو بالا افسران باہمی ملی بھگت سے مجھ پہ قاتلانہ حملہ کرنے کے عوض بطور ایوارڈ ہر ایک دو ماہ بعد پاکستان ریلوے کے سب سے بڑے جنکشن پہ تعینات کر دیتے ہیں جسکا وہ فزیکلی ڈسیبلٹی (قوتِ سماعت سے محروم ) ہونے اور جونیئر ترین ہونے کے بناء پر قطعاً اہل نہیں)

 

 

خبرنامے کا کالم میں دئیے جانے والے حقائق اور آرا سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment