سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے سفیران کا اجلاس، افغان بارڈر پر مینجمنٹ کو زیر بحث لایا گیا

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے سفیران کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر تاج محمد آفریدی کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔

تفصیلات کے مطابق آل پاکستان کسٹمز بانڈڈ کیریئر ایسوسی ایشن کے نمائندوں نے کمیٹی کو بتایا کہ بانڈڈ کیریئر ہی افغانستان سے پاکستان اور پاکستان سے افغانستان سامان کی ترسیل کرتے ہیں۔ بارڈر منیجمنٹ ایک حساس معاملہ ہے، تاہم ٹریفک کو تعطل سے بچانا لازمی ہے اور اس کیلئے حکمت عملی تمام سٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے بنانا لازمی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کراچی سے ایک گاڑی 4 سے5 دنوں میں بارڈر پر پہنچتی ہے۔ کرونا سے پہلے 8 سے10 ہزار گاڑیاں موومنٹ کرتی تھیں۔ بارڈر بند ہونے کی وجہ سے معاملات خراب ہو جاتے ہیں۔ ایسے دوطرفہ معاہدے اور بین الاقوامی قوانین ہیں جو اس بات کی ضمانت دیتے ہیں کہ ٹرانزٹ ٹریڈ پر اثر نہیں پڑے گا۔ لیکن موجودہ حالات کی وجہ سے صورتحال خراب ہوئی۔ اربوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ کوڈ19 ایک بین الاقوامی مسئلہ ہے۔ کھربوں روپے کا نقصان گاڑیوں کو روکنے کی وجہ سے ہو رہا ہے۔ اگر بارڈر بند کرنے کی اطلاع تھوڑا پہلے دے دی جائے تو بروقت چیزوں کو مینج کیا جاسکتا ہے اور کافی حد تک نقصان سے بچا جا سکتا ہے۔

کمیٹی اجلاس میں کلیئرنگ ایجنٹ کے نمائندے قاضی زاہد حسین نے بھی صورتحال پر موقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ بارڈر منیجمنٹ کا نظام تو متعارف کرا دیا گیا تاہم استعداد کار کو بڑھایا نہیں گیا۔ انہوں نے کہا کہ 2 ہزار کنٹینر کی سکیننگ کی وجہ سے بیک لاک جاری ہے اور 7 سے8 ہزار کنٹینر کراچی پورٹ پر اس وقت بھی موجود ہیں۔ 

چیئرمین کمیٹی سینیٹر تاج محمد آفریدی نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کرونا کا مطلب یہ نہیں ہے کہ زندگی کو بند کروانا ہے۔ اگر معاملات حل نہ ہوئے تو آرمی چیف اور وزیراعظم کو خط لکھوں گا اور تمام اداروں کی کارکردگی سے متعلق آگاہ کرونگا۔ ایسا نہ ہو کہ معاملہ ہاؤس میں لے کر جانا پڑے بہتر ہے کہ تمام ادارے رکاوٹوں کو دور کریں۔

چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ چیف سیکرٹری کو اس حوالے سے کمیٹی اجلاس میں مدعو کیا تھا لیکن وہ نہیں آئے۔ چیف کمشنر اس حوالے سے تمام اسٹیک ہولڈر ز کے ساتھ میٹنگ کریں اور اس کی رپورٹ کمیٹی کو پیش کریں جو کہ ایوان بالاء کے اجلاس میں پیش کی جائے گی۔

کسٹم حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ کراچی اور بارڈرز پر 100 فیصدسیکنگ ہو رہی ہے۔ 70 سے80 کنٹینر کی سیکنگ روزانہ نہیں کر سکتے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ ترقی یافتہ ممالک آرٹیفیشل انٹیلی جینس سکینگ پر انحصار کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ معاہدے کے ایک رول کے تحت ہر کنٹینر میں مارکہ لگا ہونا چاہیے جبکہ کنٹینرسیل ہوتا ہے اور ٹریکر بھی لگا ہوتا ہے۔ اگر گاڑی کھڑی ہے یا متبادل روٹ پر ہے تو ایف بی آر چیک کر سکتا ہے۔

کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر تاج محمدآفریدی نے اس بات کی نشاندہی کی کہ قواعد کے مطابق 20 فیصد سکیننگ ہونی چاہیے لہذا قواعد کے مطابق سکیننگ کے عمل کو یقینی بنایا جائے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہا کہ طورخم اور چمن بارڈر پر دودو سکینر لگائے گئے ہیں۔ کرونا وبا کی وجہ سے ٹرانزٹ ٹریڈ پر فرق پڑا ہے۔ روزانہ 500 سے600 گاڑیاں بارڈکراس کرتی تھیں۔

سینیٹر ہدایت اللہ نے کہا کہ جس ادارے کا کام ہے وہ نہیں اور جس کا کام نہیں ہے وہ موجود ہے۔ انہوں نے سوال اٹھا یا کہ کسٹم والے اگر کوئی غیر قانونی چیز پکڑتے ہیں تو یہ کس ادارے کا کام ہے۔جس پر کمیٹی کو بتایا گیا کہ یہ کسٹم کا کام ہے اگر کوئی غیر قانونی چیز سیکننگ میں نکلتی ہے تو کسٹم اسے پکڑ لیتا ہے۔جس پر سینیٹر ہدایت اللہ نے کہا کہ بارڈ منیجمنٹ کے حوالے سے چیف سیکرٹری، ایف بی آر حکام اور چیف کمشنر خیبر پختونخواہ اور دیگر ادارے میٹنگ کریں۔ انہوں نے کہا کہ طور خم بارڈر پر پارکنگ کم ہونے کی وجہ سے متنی تک لوڈڈ ٹرکوں کی لائنیں لگی ہیں۔ جس پرکمیٹی کو پولیس حکام نے بتایا کہ کوڈ ایس او پی سے بیک لاک بن رہا تھا۔طورخم پر این ایل سی ٹرمینل پر کنسٹرکشن کی وجہ سے پارکنگ جگہ کم ہوگئی ہے۔ کنسٹرکشن کی وجہ سے متنی میں بیک لاک بڑھا۔طور خم پر ایف سی کے خالی یارڈ پر پارکنگ کی اجازت دی جائے۔چیف کمشنر خیبر پختونخواہ نے کہا کہ ایف سی اور ایف بی آر کی طرف سے کیا ایشوز آرہے ہیں انکے ٹی او آر بنائے جائیں۔

چیئرمین کمیٹی سینیٹر تاج محمد آفریدی نے کہا کہ اس مسئلے پر سیکرٹری داخلہ دو روز میں متعلقہ اداروں کے ساتھ ملاقات   کر کے اس مسئلے کوحل کریں۔سب ادارے رولز کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ روڈ پر کھڑی گاڑیوں کو جلد سے جلد نکال دیں یہ ہر ادارے کی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ سیکرٹری داخلہ کی سربراہی میں کمیٹی طورخم بارڈر کا دورہ کرے اور حالات کا جائزہ لے کر مسائل کو دور کیا جائے۔

سیکرٹری خارجہ امور نے کہا کہ بارڈر کے دوسری طرف سے اگر کوئی مسئلہ درپیش ہے تو وہ دونوں اطراف کے افراد کو بلا کر مسئلے کے حل کی کوشش کریں گے۔وزارت کامرس کی جوائنٹ سیکرٹری عالیہ قاضی نے کمیٹی کو بتایا کہ پاک افغان چیمبر، سرحد چیمبر اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ اس معاملے پر ان کی تفصیلی مشاورت ہوئی ہے اور انہوں نے تصدیق کی ہے کہ ایس او پیز کا مسئلہ ختم ہو چکا ہے۔روزانہ 100 ٹرک بارڈر سے گزر رہے تھے اب کم ہو گئے ہیں۔

جوائنٹ سیکرٹری وزارت کامرس نے کہا کہ کرونا وبا سے قبل بارڈر پر ٹرک ٹو وے جار ہے تھے اب ون وے جا رہے ہیں اور ایف سی اس بات کا کیسے فیصلہ کر سکتا ہے کہ ٹریڈ کے ٹرک جائیں گے یا کسی اور کے ٹرک جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس بات کا فیصلہ کیسے ہوتا ہے کہ صبح کے 12 گھنٹے کتنے ٹرک گزریں گے۔ سیکرٹری خارجہ امور نے کہا کہ پہلے تو متعین کریں گے کہ ایشو کیا ہے اور کوئی بھی ادارہ ماننے کو تیار نہیں ہے کہ کس کا کام ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان کا بارڈر 24 گھنٹے کھلا رہتا ہے تو افغانستان کی طرف سے بھی کھلا رہنا چاہیے۔ 

کمیٹی کے آج کے اجلاس میں سینیٹرز حاجی مومن خان آفریدی، شمیم آفریدی، ہدایت اللہ، انور لال دین کے علاوہ ڈی پی او پشاور، کسٹمر، ایف بی آر اور دیگر اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

 

 

متعلقہ خبریں

Leave a Comment