ایوان بالاء کی فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق کا اجلاس، خواتین پر تشدد اور سارنگ جویو کے اغوا کا تفصیلی جائزہ

 

ایوان بالاء کی فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔
فنکشنل کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹر ثمینہ سعید کے خواتین کے حقوق کے تحفظ کے بل 2020ء، سینیٹر شریں رحمن کے خواتین پر گھریلو تشدد کے تدارک اور تحفظ کے بل 2020، ہوم سیکرٹری بلوچستان سے چمن باڈر پر ہونے والے 11اگست کے حادثے، بہاؤالدین ذکریایونیورسٹی ملتان میں صوبہ بلوچستان اور خیبر پختونخواہ کے طالبعلمو ں کا کوٹہ ختم کرنے، صوبہ سندھ سے تعلق رکھنے والے سارنگ جویو کے اغوا کے معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔
سینیٹر ثمینہ سعید کے خواتین کے حقوق کے تحفظ کے بل 2020ء کے حوالے سے چیئرمین کمیٹی سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر نے کہاکہ وزارت نے اس بل کے حوالے سے آگاہ کیا ہے کہ اس بل میں جو تجاویز ہیں اُن میں کچھ تجاویز کی ایوان بالاء کی کمیٹیوں نے پہلے ہی منظوری دے رکھی ہیں۔ کمیٹی بل کے موور ثمینہ سعید سے درخواست کرتی ہے کہ بل کا جائزہ لے کر نیا ڈارفٹ تیار کر کے کمیٹی کو فراہم کیا جائے۔
سینیٹر شریں رحمن کے گھریلو خواتین پر تشدد کے تدارک اور تحفظ کے بل 2020ء کا کمیٹی اجلاس میں تفصیل سے جائزہ لیا گیا سینیٹر شیریں رحمن نے کہا کہ دنیا بھر میں اور خاص طور پر کرونا وباء کی وجہ سے گھریلو تشدد کے واقعات میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ عورتوں پر تشدد کے تحفظ کیلئے 2003یا 2004میں بل متعارف کرایا تھا مگر کچھ صوبائی حکومتوں نے اس کو اختیار کیا اور کچھ نے عملدرآمد نہیں کیا اس کو کرئمنل جرم قرار دیا جائے۔انہوں نے کہا کہ 90فیصد خواتین جسمانی و جنسی تشدد کا شکار ہوتی ہیں۔ وفاقی دارلحکومت اسلام آباد میں ابھی تک یہ بل منظور نہیں ہو سکا۔ صوبائی حکومت پنجاب اور بلوچستان کے بلوں میں کچھ سقم ہیں جن کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایسے کیسز میں رپورٹنگ بہت بڑا اشو ہے۔ لوگ خاندان کی عزت بچاتے ہوئے کیسز رپورٹ نہیں کرتے۔
چیئرمین کمیٹی سینیٹر مصطفی نواز کھوکھرنے کہا کہ وزارت انسانی حقوق نے آگاہ کیا ہے کہ قومی اسمبلی کی انسانی حقوق کی کمیٹی کے پاس ایسا بل زیر غور ہے اس بل کو اُس کے ساتھ کلب کر کے بل کو مزید موثر بنایا جا سکتا ہے۔ فنکشنل کمیٹی نے قومی اسمبلی کی کمیٹی کے ساتھ بل کو کلب کرنے کی منظوری دے دی۔
صوبہ سندھ سے تعلق رکھنے والے سارنگ جویو کے اغوا کے معا ملے کا کمیٹی نے تفصیل سے جائزہ لیا۔ سارنگ جویو کے والد نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ کل رات اُن کے بیٹے کو آزاد کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اُن کے بیٹے کو ویرانے میں چھوڑا گیا اور تین ہزار روپے بھی دیئے گئے۔ میرے بیٹے نے سندھی زبان کے فروغ اور سندھی ادب پر بہت کا م کیا ہے۔ اُن کے دفتر کو بند کر دیا گیا ہے اور اُس کو نوکری سے فارغ کرنے پر دباؤ بھی ڈالا جا رہا ہے۔
تاج جویو نے کمیٹی کو بتایا کہ میرے بیٹے کی طرح دیگر کئی افراد کو اغوا کیا جنہوں نے سندھ کے حقوق کے تحفظ پر آواز اٹھائی۔ جس پر چیئرمین کمیٹی نے تاج جویو کی ادب میں خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی خدمات کو صدر پاکستان نے حُسن کارکردگی بھی دیا تھا جیسے احتجاجاً تاج جویو نے واپس کر دیا تھا۔
سینیٹر عثمان کاکڑ نے کہا کہ کس کے حکم پر سارنگ جویو کے دفتر کو بند کیا گیا ہے کمیٹی کو نوٹس لینا چاہئے اور چیئرمین گم شدہ افراد کمیشن کمیٹی میں کیوں نہیں آئے اس کا بھی نوٹس لیا جائے۔ جس پر رجسٹرار گمشدہ افراد کمیشن نے کمیٹی کو بتایا کہ چیئرمین کی آنکھوں کی سرجری ہونی ہے یا ہونے والی ہے اور دوسری بات سابق صدر آصف زرداری کی پیشی کی وجہ سے چیئرمین کمیشن کی موومنٹ کو سیکورٹی کا خطرہ بھی ہے۔ جس پر چیئرمین کمیٹی سینیٹر مصطفی نواز کھوکھرنے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب وزیراعظم پاکستان پارلیمنٹ کو جواب دہ ہیں اور کوئی بھی شخص یا ادارہ قانون سے بالا تر نہیں ہے تو چیئرمین کمیشن کمیٹی اجلاس میں کیوں نہیں آئے۔سیکورٹی کا سب سے زیادہ خطرہ پارلیمنٹرین کو ہوتاہے۔فنکشنل کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ گمشدہ افراد کے مسئلے کے حوالے سے فنکشنل کمیٹی تمام صوبوں کا دورہ کر کے متعلقہ حکام کے ساتھ گمشدہ افراد کی بازیابی کیلئے لائحہ عمل اختیار کرے گی۔
سابق سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ پہلے بھی 153افراد کو اٹھایا گیا تھا کمیٹی اجلاس میں اُس کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا اور اُس کی کاپی چیئرمین گم شدہ افراد کمیشن کو بھی بھیجی گئی مگر کسی پر کوئی ذمہ داری فکس نہیں کی گئی۔
چیئرمین کمیٹی کے سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ جب سے گم شدہ افراد کمیشن بنایا گیا ہے گم شدہ افراد کے حوالے سے ذمہ داری فکس نہیں کی جا سکی کمیٹی کو آئندہ اجلاس میں مزید تفصیلات سے آگاہ کر دیا جائے گا۔
چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ 450گم شدہ افراد کو ماضی میں چھوڑا گیا مگر ذمہ داری آج تک فکس نہیں کی جا سکی اداروں کو قانون کے مطابق کام کرنا چاہئے۔ سینیٹر محمد علی سیف نے کہا کہ گمشدہ افراد کے حوالے سے کمیشن کمیٹی کو مکمل ڈیٹا فراہم کرے تاکہ جائزہ لے کر حکمت عملی اختیار کی جا سکے۔انہوں نے کہا کہ گمشدہ افراد کے کیسز کو پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے تا کہ پیش رفت بارے بھی آگاہی ملتی رہے۔
بہاؤالدین ذکریایونیورسٹی ملتان میں صوبہ بلوچستان اور خیبر پختونخواہ کے طالبعلموں کا کوٹہ ختم کرنے کے حوالے سے وائس چانسلربہاؤالدین ذکریایونیورسٹی ملتان ڈاکٹر منصور احمد کنڈی نے کمیٹی کو بتایا کہ بلوچستان اور فاٹا کے طالبعلموں کی سیٹوں کو ختم نہیں کیا گیا موجودہ سال سے اب فیسیں وصول کی جائیں گی پہلے سے رجسٹرڈ بچے 2023تک مفت تعلیم اور مفت ہاسٹل کی سہولت حاصل کریں گے۔ ادارے کو مالی مسائل کا سامنا ہے اب بچے آن لائن درخواستیں دیں گے زیادہ تر لڑکیوں نے شکایت کی ہے کہ نومینیشن میں مسئلہ آتا ہے صوبہ پنجاب اور بلوچستان کی حکومت نے 27کروڑ کی ادائیگی بھی کرنی ہے۔
سینیٹر محمد علی سیف نے کہا کہ بلوچستان کے حوالے سے معاملہ سینیٹ میں اٹھایا تھا بہتر یہی ہے کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کو طلب کر کے تفصیلات حاصل کی جائیں۔ جس پر فنکشنل کمیٹی نے ایچ ای سی سمیت ایچ ای ڈی کے حکام کو طلب کر لیا تا کہ معاملہ کا تفصیل سے جائزہ لیا جائے کہ کسطرح احساس پروگرام کے ساتھ بچوں کو ریلیف دیا جا سکتا ہے۔
کمیٹی اجلاس میں چمن باڈر پر ہونے والے 11اگست کے حادثے کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا جس پر ایڈیشنل چیف سیکرٹری حافظ عبدالباسط نے کمیٹی کو تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ کرونا وباء کی وجہ سے چمن باڈر کو 2مارچ سے بند کر دیا گیا تھا مقامی لوگوں کے آدھے رشتہ دار بارڈر کے دوسری طرف بھی رہتے ہیں اُن کے کاروبار بھی وہی ہیں۔ باڈر بند ہونے کی وجہ سے لوگوں نے احتجاج کیا اور قرطینہ سنٹر کو بھی نقصان پہنچایا گیا تھا۔ عید کے روز دونوں اطراف لوگوں کا رش بڑھ گیا کچھ لوگوں نے شرارت سے پتھر پھینکے اور زبردستی گیٹ کھولنے کی کوشش کی گئی اور فائرنگ ہونے کی وجہ سے پانچ لوگ شہید اور 19زخمی ہوئے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے ایک میٹنگ بولائی تھی جس میں متعلقہ اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی تھی۔ اُن کے 99فیصد مطالبے پورے کئے گئے صرف ایک مطالبہ کہ بارڈر فوری کھولا جائے کو نہیں مانا گیا۔
سینیٹر عثمان خان کاکڑ نے کہا کہ پہلے شناختی کارڈ دکھا کر لوگ آ جا سکتے تھے اب ویزا لے کر جانا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ ایف سی نے فائرنگ کی جس میں پانچ لوگ شہید اور 41زخمی ہوئے تھے۔ یہ مسئلہ وفاقی حکومت اور ایف سی کا ہے۔ وزارت داخلہ اس حوالے سے کمیٹی کو بریف کرے۔

چیئرمین کمیٹی کے سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ شہید ہونے والے افراد کے لواحقین کو 15لاکھ فی کس اور زخمی کو 2لاکھ کی امداد کی سمری بنا کر وزیراعلیٰ کو بھیجی گئی ہے۔
سابق سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ کمیٹی جب کوئٹہ کا دورہ کرے تو چمن کا دورہ کر کے لوگوں اور متعلقہ اداروں سے معلومات حاصل کرے انہوں نے کہا کہ قبائلیوں کی آسانی سے بارڈر کراسنگ کے حوالے سے ایک معاہدہ کیا گیا تھا وزارت خارجہ اور سابق سفیر بیرسٹر صادق کو بھی چمن دورے کے دوران طلب کر کے اُس معاہدے کے حوالے سے معلومات حاصل کی جائیں اور معاملے کی جو ڈیشل انکوائری بھی ہونی چاہئے۔ جس پر چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ وہ جوڈیشل انکوائری کے حوالے سے مطالعہ کرتے ہیں کہ کمیٹی کیا اختیارات رکھتی ہے کہ جوڈیشل انکوائری کی سفارش کرے یا وزیراعلیٰ بلوچستان کو خط لکھا جائے۔
کمیٹی کے آج کے اجلاس میں سینیٹرز شیری رحمان،عائشہ رضا فاروق، محمد عثمان خان کاکڑ، کشو بائی، پروفیسر ڈاکٹر مہر تاج روغانی، محمد علی سیف، کامران مائیکل کے علاوہ سیکرٹری وزارت انسانی حقوق ر بیعہ جویریہ آغا، ڈی جی انسانی حقوق محمد حسن منگی، رجسٹرار گمشدہ افراد کمیشن خالد نسیم، آئی جی پولیس سندھ مشتاق احمد عامر، ایڈیشنل چیف سیکرٹری صوبہ بلوچستان حافظ عبدالباسط، ایڈیشنل آئی جی کراچی غلام بنی میمن، وی سی بہاؤالدین ذکریایونیورسٹی ملتان ڈاکٹر منصور اکبر کنڈی اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment