سندھ میں ڈاکوؤں نے لوگوں کو لوٹنے کا طریقہ واردات بدل لیا

سندھ کے ‎کچے کے علاقے میں ڈاکوؤں نے لوگوں کو لوٹنے کا طریقہ واردات بدل لیا اور اپنے شکار کو پھنسانے کے لیے لڑکیوں کو استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔

‎سندھ کے کچے کے علاقے میں موجود ڈاکو اپنے شکار کوپھنسانے کے لیے لڑکی کی آواز میں فون کرکے پہلے دوستی کرتے ہیں اور پھر ملاقات کے لیے اپنے من پسند مقام پر بلاکر اغوا کرلیتے ہیں، جرم کی دنیا میں اس طریقہ واردات کو ہنی کڈنیپنگ کہتے ہیں۔

سندھ پولیس نے کشمور میں کارروائی کے دوران نوجوان کو اغوا ہونے سے پہلے بچالیا، نوجوان کو لڑکی کی آواز میں جھانسہ دے کر بلایاگیا تھا۔

ڈی آئی جی پولیس سکھر فدا حسین مستوئی کے مطابق لڑکیوں کی آواز میں یا بعض اوقات لڑکیاں ہی فون پر اپنے شکار کو پھنساتی ہیں اور ‎گزشتہ ایک سال کے دوران پولیس ہنی ٹریپ میں پھنسے 50 اغوا ہونے والے افراد کو بازیاب کراچکی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ہزاروں ایکڑ اراضی پر مشتمل کچے کے علاقے میں متعدد آپریشنز کے باوجود ڈاکوؤں کا مکمل راج تاحال ختم نہیں ہو سکا، ڈاکوؤں کے پاس عام کلاشنکوف، رائفلوں سے لیکر، جی تھری رائفلیں، راکٹ لانچر، اینٹی ایئر کرافٹ گنز کی موجودگی کے سبب علاقہ غیر کا منظر پیش کرتا ہے۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment