سعودی عرب اور اسرائیل کے مابین سفارتی تعلقات جلد بحال ہو جائیں گے، امریکا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سینیئر مشیر کا کہنا ہے کہ سعودی عرب اور اسرائیل کے مابین سفارتی تعلقات وقت کی اہم ضرورت ہے۔ 

خبررساں ادارے اے ایف پی کی ایک رپورٹ کے مطابق، امریکی صدر کے سینیئر مشیر جیرڈ کشنر نے کہا ہے کہ اسرائیل اور سعودی عرب کے مابین تعلقات کو معمول پر لانا ناگزیر ہے۔ تعلقات استوار کرنا سیکیورٹی و معاشی نقطہ نظر سے خلیجی ممالک کے مفاد میں ہے جبکہ اس اقدام سے فلسطینی عوام کی بھی مدد ہوگی۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد اور سینئر مشیر جیرڈ کشنر کا کہنا ہے کہ اسرائیل اور سعودی عرب کے مابین تعلقات معمول پر لانے کا معاملہ یقینی ہے اور بہت جلد تعلقات بحال ہوجائیں گے۔

جیریڈ کشنر نے بتایا کہ متحدہ عرب امارات اور صیہونی حکومت کے مابین معاہدے پر جلد ہی وائٹ ہاؤس میں ایک تقریب کے دوران دستخط کیا جائے گا۔

امریکی صدر کے مشیرکا کہنا ہے متعدد عرب ممالک نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاہم متحدہ عرب امارت پہلا عرب ملک ہے جس نے اسرائیل کے ساتھ باقاعدہ معاہدہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

امریکی صدر  کے مشیر نے دعویٰ کے مطابق  خلیجی ملک متحدہ عرب امارات کے بعد بحرین کے اسرائیل سے تعلقات قائم ہونے کے امکانات ہیں۔

خیال رہے کہ متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان باہمی تعلقات قائم کرنے کے لیے امن معاہدہ طے پایا ہے جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اہم کردار ادا کیا ہے۔

امن معاہدے کے تحت اسرائیل مزید فلسطینی علاقے ضم نہیں کرے گا اور دو طرفہ تعلقات کے لیے دونوں ممالک مل کر روڈ میپ بنائیں گے۔

 

 

متعلقہ خبریں

Leave a Comment