ناراض طالبان میں دوریاں ختم۔ شدت پسند دھڑے ٹی ٹی پی میں ضم ہونے پر راضی

پاکستان میں تخریب کاری کرنے والی کالعدم دہشت گرد تنظیم تحریک طالبان پاکستان اندرونی اختلافات اور فوجی آپریشن ضربِ عضب کی وجہ سے دھڑے بندی کا شکار ہو گئی تھی لیکن اب ایک مرتبہ پھر یہ دہشت گرد تنظیم پھر اکٹھی ہونے جا رہی ہے اور پیر کو باقاعدہ طور پر دو بڑے گروپوں نے جماعت الاحرار اور حزب الاحرار نے تحریک میں ضم ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔

یہ شدت پسند  گروپس مختلف علاقوں میں  علیحدہ علیحدہ  شدت پسندی کی کارروائیوں میں ملوث رہے ہیں اور کچھ روز پہلے ان گروپوں کے درمیان رابطے شروع ہوئے تھے۔

کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے ایک بیان کے مطابق ’جماعت الاحرار کے سربراہ عمر خالد خراسانی اور حزب الاحرار کے امیر عمر خراسانی نے تحریک طالبان پاکستان کے امیر ابوعاصم منصور کے ساتھ ہجرت اور جہاد پر بیعت کرتے ہوئے اپنے سابقہ گروپوں (جماعت الاحرار اور حزب الاحرار) کے خاتمے کا اعلان کیا اور اس بات کا عہد کیا کہ ان کے گروپس تحریک طالبان پاکستان کے جھنڈے تلے شرعی اصولوں کی پابند ہوں گی۔‘

ذرائع کے مطابق ایک عرصے سے تحریک طالبان پاکستان کے بڑے شدت پسند گروپس کو کالعدم تنظیم تحریک طالبان کے موجودہ سربراہ نور ولی کی جانب سے یکجا کرنے کے لیے کوششیں جاری تھیں اور گزشتہ چند روز اس بارے میں تقریباً تمام امور طے کر لیے گئے تھے اور چند ایک معاملات پر اختلاف پایا جاتا تھا جسے اتوار کی رات حل کر لیا گیا ہے۔

تحریک طالبان پاکستان نے کچھ روز پہلے ایک بیان بھی جاری کیا تھا کہ ’ان تمام تنظیموں کے اتحاد کے لیے کوششیں جاری ہیں اور جلد خوشخبری دی جائے گی ‘

یہ تنظیمیں کب اور کیوں الگ ہوئیں؟

افغانستان پر امریکی حملے کے بعد افغان طالبان کی طرز پر پاکستان میں بھی تحریک طالبان پاکستان کی بنیاد ڈالی گئی اور یہ تنظیم متعدد شدت پسند کارروائیوں میں ملوث رہی۔ اس تنظیم کے سربراہوں میں نیک محمد ، بیت اللہ محسود، حکیم اللہ محسود، مولانا فضل اللہ، خان سید سجنا اور دیگر کمانڈر شامل ہیں۔ حکیم اللہ محسود کی ہلاکت اور پاک فوج کے پے در پے آپریشنز کے بعد تنظیم میں اندرونی انتظامی اختلافات بڑھتے گئے جس وجہ سے یہ تنظیم دھڑا بندی کا شکار ہو گئی تھی۔

کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان اور بعد میں جماعت الاحرار کے ترجمان کی حیثیت سے کام کرنے والے احسان اللہ احسان نے غیر ملکی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ اگست 2015 میں تحریک کے کچھ کمانڈروں کے تنظیم سازی کے عمل پر اختلافات تھے جن کی وجہ سے اگست 2015 کو جماعت الاحرار کی بنیاد ڈالی گئی تھی۔ اس کے بعد جماعت الاحرار سے بھی کچھ لوگ علیحدہ ہوئے اور نومبر 2017 کو حزب الاحرار کے نام سے ایک نئی تنظیم کی بنیاد ڈالی گئی تھی۔

اختلافات کی وجوہات

تحریک طالبان پاکستان کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان نے تحریری طور پر غیر ملکی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ ’جماعت الاحرار نے انتظامی اختلافات کی بنیاد پر ٹی ٹی پی سے علیحدگی اختیار کی تھی کیونکہ اس وقت ان کا مطالبہ تھا کہ ٹی ٹی پی کا تنظیمی ڈھانچہ افغان طالبان کے طرز پر ہونا چاہیے اور سارے کام ایک خود مختار شوریٰ کو کرنے چاہییں جس میں تمام گروپس کو ان کی حیثیت اور صلاحیت کے مطابق نمائندگی حاصل ہو۔ اس معاملے پر اس وقت ٹی ٹی پی میں اختلافات پیدا ہوگئے تھے جس کے نتیجے میں نئی تنظیم کی بنیاد ڈالی گئی تھی۔‘

احسان اللہ احسان نے مزید بتایا کہ افغان طالبان کا طرز تنظیم یہ ہے کہ ہر کمانڈر کو ایک کھلا محاذ میسر ہوتا ہے یعنی وہ جہاں چاہے وہاں باقاعدہ اجازت سے کارروائی اور گروپنگ کر سکتا ہے اور شدت پسندوں کو اختیار حاصل ہوتا ہے کہ وہ جس گروپ میں چاہیں چلے جائیں جبکہ پاکستانی طالبان کا تنظیمی ڈھانچہ قبائلی تقسیم پر ہے جہاں ہر شدت پسند صرف اپنے قبائلی لیڈر کے ساتھ ہی مربوط ہوتا ہے، جس پر اعتراض تھا اور اب اس پر بات چیت کی گئی ہے۔

احسان اللہ احسان کے مطابق ٹی ٹی پی کا دوسرا بڑا مسئلہ ان کے مرکزی شوریٰ کا تھا یعنی مرکزی شوریٰ میں ہر گروپ کا ایک نمائندہ ہوتا ہے جبکہ افغان طالبان مرکزی شوریٰ میں صرف باصلاحیت افراد کو رکھتے ہیں۔ ان کی نظر میں ان گروہوں کو یہ اندازہ ہوگیا ہے کہ الگ الگ رہ کر ان کی قوت تقسیم رہے گی اس لیے وہ ایک دوسرے کے قریب آ رہے ہیں۔

احسان اللہ احسان کا کہنا تھا کہ اعداد و شمار اور زمینی حقائق کو دیکھیں تو جماعت الاحرار پاکستان مخالف گروپس میں زیادہ متحرک رہی ہے اور مفاہمت سے زیادہ عسکریت کی حامی رہی ہے۔ عمر خالد خراسانی اور ان کا گروپ اپنے مخالفین سے مزاکرات کا کبھی بھی قائل نہیں رہا۔

احسان اللہ احسان کے مطابق ٹی ٹی پی کی موجودہ قیادت مفتی نور ولی محسود نے امیر بنتے ہی اپنی تمام تر توانائی ناراض گروپس کو دوبارہ ٹی ٹی پی میں شامل کرنے پر لگائی اور اس میں انھیں کامیابی بھی ملی۔

ذرائع کے مطابق ایسی اطلاعات ہیں کہ دیگر دھڑے جو پاکستان کے مختلف علاقوں میں شدت پسندی کی کارروائیاں کرتے رہے ہیں ان سے بھی رابطے کیے جا رہے ہیں تاکہ ایک تنظیم کے تحت انھیں اکٹھا کیا جا سکے۔ اس سے پہلے تحریک طالبان میں علیحدہ گروپ بنانے والے شہریار محسود کا دھڑا بھی ٹی ٹی پی کی قیادت پر متفق ہو چکا ہے۔

پاک فوج کے آپریشن ضرب عضب کے بعد اگرچہ شدت پسندوں کی کارروائیاں بتدریج کم ہونا شروع ہو گئی تھیں لیکن اس دوران تشدد کے بڑے واقعات بھی رونما ہوئے تھے۔ تشدد کے یہ واقعات اب بھی چیدہ چیدہ علاقوں میں پیش آ رہے ہیں جن میں زیادہ تر ٹارگٹ کلنگ کے واقعات ہیں۔

دفاعی امور کے ماہرین شدت پسندوں کے دوبارہ گٹھ جوڑ کے بارے میں کہتے ہیں کہ پاک فوج کے آپریشن ضرب عضب کے بعد تحریک طالبان کے لوگ تتر بتر ہو چکے ہیں اور اب تخریب کاری کے لیے انھیں مزید افراد نہیں مل رہے جو ان کے ساتھ شامل ہوں اس لیے یہ لوگ اپنے طور پر کوششیں تو کر رہے ہیں لیکن انھیں کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوگی۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment