وفاقی حکومت کے دو سالوں میں سرکاری ہسپتالوں کے مسائل جوں کے توں

نیا پاکستان بنے گا کامیابی حاصل ہوگی، نئی حکومت آئے گی تو حالات بدلیں گے۔ یہ ایک ایسے جملے تھے جو امید باندھتے تھے پر دو سال گزر گئے حکومت کی کارکردگی کچھ تبدیلی نہ لاسکی۔ سرکاری اسپتالوں کے حالات ہوں یا پھر ادویات کی قیمتوں کے مسائل کم نہ ہو سکے۔

حکومت کی دو سالہ کارکردگی کوئی خاص تبدیلی نہ لا سکی۔ جہاں سرکاری اسپتالوں کے حالات بدلنے کے وعدے کیئے گئے وہاں پر دو سالوں میں دواؤں کی قیمتیں کم ہونے کے بجائے بڑھائی گئیں ۔گزشتہ سال 7 سے 35 فیصد جب کہ اس سال 10 فیصد دواؤں کی قیمتیں بڑھائیں گئیں، جبکہ اسپتالوں کی حالت زار بدلنے کے بجائے بد سے بدتر ہو چکی ہے۔ 

اسلام آباد کی سرکاری اسپتالوں کو بہتر بنانے کے وعدے تو بہت کیئے گئے پر ان پر عمل نا ہوسکا۔ اسپتال میں مریض خوار ہوتے نظر آتے ہیں۔ مریضوں کا کہنا تھا کہ یہ حکومت ناکام ہوچکی ہے کیوں کہ سہولیات دو سالوں میں کہیں نظر نہیں آئیں۔ 

ترجمان ڈاکٹر وسیم خواجہ کا کہنا تھا کہ اسپتالوں کی حالت پہلے سے بہتر ہو گئی ہے۔ مریضوں کی سہولیات کے لیئے نئے وارڈز بنائے جائینگے جب کہ عملے کی تعداد بھی بڑھائی جائے گی۔ 

شہریوں کا کہنا ہے کہ دوائیوں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ حکومت صرف صحت سے متعلق مسائل پر بل پاس کرتی ہے اور عملی طور ہسپتالوں کی حالت زار ہے۔ حکومتی کارکردگی صرف پریس کانفرنسوں کی حد تک ہے۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment