کفایت شعاری دھری رہ گئی۔۔ مہنگائی 8 سال کی بلند ترین سطح پر

تحریک انصاف کی وفاقی حکومت کے 2 سال مکمل ہو گئے ہیں۔ 18 اگست 2018  کو پاکستان تحریک انصاف کی حکومت بنی۔  

ادارہ شماریات کے مطابق دو سال میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ ہوا۔چینی اوسط 40 روپے 08 پیسے فی کلو مہنگی ہوئی۔ اگست 2018 میں چینی کی اوسط قیمت 55.59 روپے فی کلو تھی ۔ چینی کی اوسط قیمت بڑھ کر اب 95 روپے 67 پیسے فی کلو ہوگئی۔

ادارہ شماریات کی دستاویزات کے مطابق اگست 2018 تا اگست 2020 دال ماش 91 روپے فی کلو مہنگی ہوئی۔ دال مسور 38 روپے,دال مونگ 116 روپے فی کلو مہنگی ہوئی۔ اگست 2018 تا اگست 2020 دال چنا 18 روپے فی کلو مہنگی ہوئی۔ 

تحریک انصاف کی حکومت کے دور میں اگست 2018 تا اگست 2020 بکرے کا گوشت 184 روپے فی کلو مہنگا ہوا ۔ اسی عرصے میں گائے کا گوشت 95 روپے فی کلو مہنگا ہوا۔ مرغی زندہ برائلر 8 روپے فی کلو مہنگی ہوئی۔

موجودہ حکومت کے دو سال میں تازہ دودھ 17 روپے فی لیٹر مہنگا ہوا ۔ اسی عرصے کے دوران دہی 16 روپے فی کلو مہنگا ہوا۔

موجودہ دور حکومت میں آلو 33 روپے,پیاز 3 روپے فی کلو مہنگے ہوئے۔ لہسن 103 روپے فی کلو مہنگا ہوا۔ آٹے کا 20 کلو کا تھیلا اوسط 232 روپے مہنگا ہوا ۔

دستاویزات کے مطابق انڈے 32 روپے اور کیلئے 4 روپے فی درجن مہنگے ہوئے۔ چاول 14 روپے فی کلو مہنگے ہوئے۔اگست 2018 تا اگست 2020 ڈھائی کلو گھی کا ٹن 160 روپے مہنگا ہوا دستاویز 

موجود حکومت کے دور میں مہنگائی 8 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ مالی سال 2019-20 میں مہنگائی کی اوسط شرح 10.74 فیصد رہی۔ مالی سال 2017-18 میں مہنگائی کی اوسط شرح 4.68 فیصد تھی۔

 

 

متعلقہ خبریں

Leave a Comment