ایف بی آر کی فلسطین کے سفیر کو نوٹس جاری کرنے پر معذرت

اسلام آباد : ایف بی آر نے غیر ملکی سفیر کو نوٹس جاری کرنے پر معذرت کر لی۔

ایف بی آر کے بیان میں کہا گیا کہ اس کے نوٹس میں آیا کہ کسٹمز کولیکٹر (ایڈجیوڈیکیشن) اسلام آباد نے کسٹمز ایکٹ 1969 کی خلاف ورزی پر ایک غیر ملکی سفیر کو شو کاز نوٹس جاری کیا جو کہ ویانا کنونشن کے تحت کسی بھی غیر ملکی سفارتکار کو دی گئی مراعات کے منافی ہے۔ لہذا ایف بی آر کے احکامات کے تحت اسلام آباد کسٹمز دفتر شو کاز نوٹس اور ضبطگی رپورٹ میں ترمیم کر رہا ہے۔ اس سلسلے میں غیر ملکی سفیر کو پہنچنے والی کسی بھی قسم کی تکلیف پر ایف بی آر معذرت خواہ ہے۔

یاد رہے ایف بی آر کی طرف سے برادر اسلامی ملک فلسطین کے سفیر کو لگژری گاڑی کی درآمد پر نوٹس بھیجا گیا تھا۔

واضح رہے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مشاہد حسین سید نے کسٹم ایکٹ کی مبینہ خلاف ورزی پر فیڈرل بورڈ آف ریونیو  (ایف بی آر) کی طرف سے پاکستان میں فلسطینی سفیر احمد ربعی کو شوکاز نوٹس جاری کرنے سے متعلق معاملہ سینیٹ میں اٹھایا تھا۔ مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر نے کہا کہ ایف بی آر نے سفیر سے معافی مانگ لی ہے، لیکن یہ قابل قبول نہیں ہے ،کیونکہ یہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب مسلم ممالک کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سفارت کار کو نہ صرف دو گاڑیوں کی درآمد سے متعلق نوٹس پیش کیا گیا، بلکہ ایف بی آر کے سامنے پیش ہونے کو بھی کہا گیا جو ویانا کنونشن اور دیگر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ مزید یہ کہ ان کی گاڑیاں ضبط  بھی کی گئیں جو دوست ملک کے سفیر کے ساتھ ‘زیادتی’ ہے۔ انہوں نے اس معاملے پر خاموش رہنے پر دفتر خارجہ کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا حالانکہ یہ معاملہ گزشتہ ماہ اس کے علم میں لایا گیا تھا۔ 

سینیٹ کے چیئرمین نے مشاہد سید کی سربراہی میں امور خارجہ سے متعلق کمیٹی کو معاملہ بھجواتے ہوئے کہا کہ وہ ایوان کے سامنے اپنی رپورٹ پیش کریں۔

یاد رہے فلسطینی مشن نے 2019 ماڈل کی بی ایم ڈبلیو ایکس 7 اور کروزرZX درآمد کی تھیں، جن پر انہیں بالترتیب 58.2 ملین اور 18.4 ملین روپے کا ٹیکس استثنیٰ ملا تھا۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment