سعودی عرب کے بعد چین سے بھی تعلقات خراب ہیں، مفتاح اسماعیل کا انکشاف

پاکستان میں مسلم لیگ نواز کے رہنما اور سابق وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل نے انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ  پاکستان کے  سعودی عرب اور چین کے ساتھ تعلقات ٹھیک نہیں ہیں۔

کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سابق وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے وفاقی حکومت کی خارجہ پالیسی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ مجھے نہیں معلوم کہ مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے موجودہ حکومت کی خارجہ پالیسی کیا ہے، لیکن حکومت کو ڈاکٹر شیریں مزاری کے وزارت خارجہ پر اٹھائے جانے والے سوالات کا جواب ضرور دینا چاہیے۔

 واضح رہے گزشتہ روز وزیر اعظم عمران خان نے ایک نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے ان میڈیا رپورٹس کو مسترد کر دیا تھا جن میں کہا گیا تھا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات میں کشیدگی ہے۔

مفتاح اسمٰعیل نے کہا کہ موجودہ حکومت نے پچھلے دو سالوں میں 11 ہزار ارب روپے کا قرضہ لیا، جبکہ مسلم لیگ ن نے اپنے گزشتہ دور حکومت کے پانچ سالوں میں 10 ہزار ارب روپے قرض لیا اور مسلم لیگ (ن) نے جو قرضہ لیا اس کا حساب دینے کے لیے تیار ہیں۔

مسلم لیگ ن رہنما کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت میں ہر چیز مہنگی فراہم کررہی ہے تو ایسے حالات میں ہم حکومت کی ‘صاف نیت’ کا کیا کریں، ہم مہنگائی 3.9 فیصد پر چھوڑ کر گئے تھے لیکن اب 12 فیصد تک چلی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ‘موجودہ حکومت کو 2 سالہ کارکردگی پر بات کرنے کے بجائے منہ چھپانا چاہیے۔ وزیراعظم جس چیز کا نوٹس لیتے ہیں وہ مہنگی ہوجاتی ہے جس کی مثال چینی اور آٹا ہے لیکن حکومت ہر الزام مافیا پر ڈال دیتی ہے۔

مفتاح اسمٰعیل کا مزید کہنا تھا کہ جس بنا پر چینی ایکسپورٹ کی وہ اعداد و شمار ہی غلط تھے اور چینی آٹےکا مسئلہ حکومت کی اپنی وجہ سے آیا۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment