سی ڈی اے اسپتال میں اضافی بلاک کی تعمیر پر کام تیزی سے جاری

اسلام آباد : کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) اسپتال میں اضافی بلاک کی تعمیر پر کام تیزی سے جاری ہے۔

اضافی بلاک کی تعمیر کا 30فیصد کام مکمل کر لیا گیا ہے۔ اس ضمن میں بیسمنٹ اور فرسٹ فلور کے فریم سٹرکچر کا کام مکمل کرنے کے بعد دوسرے فلور کی شٹرنگ کا عمل جاری ہے جس کو آئندہ دو ہفتوں میں مکمل کر لیا جائے گا۔ ورکس ونگ کو ہدایت کی گئی ہے کہ کام کی رفتار کو مزید تیز کرنے کے ساتھ ساتھ لیبر کی تعداد کو دگنا کیا جائے تاکہ منصوبے کی بروقت تکمیل کو یقینی بنایا جا سکے۔

کیپٹل ہسپتال میں اضافی بلاک کی تعمیر کا کام ستمبر میں شروع کیا گیا تھا جس پر اب تک بیسمنٹ اور فرسٹ فلور کے فریم سٹرکچر کا کام مکمل کر لیا گیا ہے۔کرونا وائرس کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال کی وجہ سے منصوبے پر کام کی رفتار متاثر ہوئی تاہم منصوبے کی بروقت تکمیل کے لیے سی ڈی اے انتظامیہ نے ہدایت کی تھی کہ لیبر کی تعداد کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ اس کی بروقت تکمیل کے لیے تمام کوششیں بروئے کار لائی جائیں۔

اس ضمن میں موئثر مانیٹرنگ کو بھی یقینی بنایا جا رہا ہے تاکہ کام کی رفتار اور معیار کو برقرار رکھا جا سکے۔ سی ڈی اے انتظامیہ کی ہدایت کی روشنی میں منصوبے پر کام کرنے والی لیبر کی تعداد کو بڑھا دیا گیا ہے جس سے کام کی رفتار میں تیزی آئی ہے۔مزید برآں او پی ڈیز جو پہلے بند تھیں اس کی وجہ سے منصوبے پر دو شفٹوں میں کام کیاجاتا رہا تاہم اب او پی ڈیز کھلنے کے بعد لیبر کی تعداد بڑھا کر تعمیراتی کام زیادہ تر او پی ڈی (OPD) کے اوقات کے بعد یا اس وقت ہوتا ہے جب ہسپتال میں مریضوں کی آمد نسبتاًکم ہوتی ہے۔

بہت سے دوسرے منصوبوں کی طرح، سی ڈی اے اسپتال میں اضافی بلاک کی تعمیر بھی سالوں سے تعطل کا شکار رہی، تاہم، موجودہ انتظامیہ نے اس منصوبے کی اہمیت کے پیش نظر، نہ صرف اس منصوبے کے لئے فنڈ مختص کیے بلکہ منصوبے میں حائل رکاوٹیں دور کیں، باضابطہ طور پر اس منصوبے پر کام کا آغاز کیا جو اب تیزی سے جاری ہے۔

پانچ منزلہ اضافی بلاک میں 100 بستروں کی سہولت ہوگی جس میں ائر کنڈیشنگ، بجلی کا کام اور جنریٹرز کی تنصیب اور دیگر متعلقہ سہولیات بھی شامل ہیں۔ مزید برآں اس بلاک میں آئی سی یو (ICU) اور سی سی یو (CCU) کے شعبے قائم کی جائیں گے۔ اس منصوبے پر تخمینہ لاگت 168 ملین ہے۔ سی ڈی اے اسپتال میں اضافی بلاک کی تعمیر سے نہ صرف سی ڈی اے کے ہزاروں ملازمین اور ریٹائرڈ ملازمین بلکہ پرائیویٹ مریضوں کو بھی جدید طبی سہولیات ملے سکے گی۔

انجینئرنگ ونگ کے متعلقہ شعبہ کو ہدایات جاری کی گئیں ہیں کہ کام کی رفتار اور کام کی بہترین کوالٹی کو جاری رکھتے ہوئے اسکی مانیٹرنگ کو بھی یقینی بنایا جائے۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment