پاکستان کی طرف سے کئی افغان طالبان رہنماؤں پر پابندیاں عائد

پاکستان نے ملا برادر سمیت کئی افغان طالبان پر سخت مالی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔

عالمی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق کے مطابق جمعے کی شب دیر سے جاری کیے جانے والے احکامات میں جن درجنوں افراد پر مالی پابندیاں عائد کی گئی ہیں ان میں طالبان مذاکراتی ٹیم کے رکن ملا عبدالغنی برادر، طالبان کے نائب سربراہ سراج الدین اور حقانی خاندان کے متعدد افراد شامل ہیں۔ پابندی کی زد میں آنے والے گروپوں کی فہرست میں طالبان کے علاوہ دوسرے افراد بھی شامل ہیں۔

یہ احکامات فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی طرف سے بلیک لسٹ میں آنے سے بچنے کے لئے پاکستان کی کوششوں کے ایک حصے کے طور پر جاری کیے گئے ہیں۔

پاکستان کے اعلی حکام نے بتایا کہ پاکستان گرے لسٹ سے باہر نکلنے کی کوشش کر رہا ہے۔

دوسری طرف افغان طالبان کی طرف سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ، لیکن اس گروپ کے بہت سارے رہنما پاکستان میں کاروبار اور جائیداد کے مالک تھے۔

طالبان کے ساتھ ساتھ  ان احکامات میں القاعدہ اور دولت اسلامیہ سے وابستہ تنظیموں پر بھی پابندیاں لگائی گئی ہیں جنہوں نے پاکستان اور افغانستان دونوں میں ہی مہلک حملے کیے ہیں۔ اس کے علاوہ بھارت مخالف گروہوں پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ان پابندیوں کا مقصد تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو  بھی نشانہ بنانا مقصود ہو سکتا ہے، جن کے ہزاروں جنگجو پاکستان میں پے در پے فوجی آپریشنز کے بعد افغانستان روپوش ہیں۔

کالعدم ٹی ٹی پی پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں مین ملوث ہے اور حال ہی میں بکھرے ہوئے دہشت گرد گروہ دوبارہ منظم ہونے کی کوشش کر رہے ہیں جو پاکستان کے دفاعی اداروں کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment