دوا ساز کمپنیوں کو ادویات 10 فیصد مہنگی کرنے کی اجازت

اسلام آباد: وزارت قومی صحت نے سالانہ کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) کے مطابق ادویات بنانے والی کمپنیوں کو انتہائی اہم ادویات کی قیمتوں میں 7 فیصد جبکہ غیر اہم ادویات کی قیمتوں میں 10 فیصد اضافہ کرنے کی اجازت دے دی۔

وزارت قومی صحت کے ترجمان نے کہا کہ وفاقی حکومت نے عالمی وبا کوروناوائرس کے دوران لوگوں کو درپیش مشکلات کم کرنے کے لیے دوائیاں بنانے والی کمپنیوں سے رابطہ کر کے قیمتیں مستحکم رکھنے کے فوری اقدامات کیے۔

واضح رہے کہ ڈرگ پالیسی 2018 کے تحت سالانہ کنزیومر پرائس انڈیکس کے مطابق دوائیاں بنانے والی کمینیاں انتہائی اہم ادویات کی قیمتوں میں 7 فیصد جبکہ غیر اہم ادویات کی قیمتوں میں 10 فیصد اضافہ کر سکتی ہیں۔

تاہم تمام ادویات آئندہ ماہ کے آخر تک پرانی قیمتوں پر ہی دستیاب رہیں گی کیوں کہ دوائیاں بنانے والی کمپنیوں نے عوام کو ریلیف دینے کے حکومتی اقدامات میں ساتھ دینے کے لیے مالی سال کی ابتدائی سہ ماہی میں ادویات کی قیمتیں نہ بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔

تاہم ادویات بنانے والی کمپنیوں نے حکومت کی جانب سے کورونا وائرس کے سلسلے میں عوام کو ریلیف دینے کے اقدامات میں تعاون کے لیے رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں ادویات کی قیمتیں نہ بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔

وزارت صحت نے ڈریپ کی منظوری کے بعد گزشتہ ماہ ادویات کی قیمتوں میں تبدیلی کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا لیکن کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ سے اس معاملے پر ادویات بنانے کمپنیوں کے ساتھ بات چیت جاری تھی۔

وفاقی وزارتِ  صحت کے ترجمان کا کہنا تھا کہ حکومت، ادویات بنانے والی کمپنیوں کی جانب سے اس مشکل وقت میں عوام کو ریلیف دینے کے لیے حکومت کا ساتھ دینے کے فیصلے کو سراہتی ہے۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment