نجی کیڈٹ کالجوں کے ناموں کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر

سپریم کورٹ میں نجی کیڈٹ کالجز کی جانب سے کیڈٹ لفظ کے استعمال پر عدالت نے درخواست گزار کو آئندہ سماعت پر تیاری کے ساتھ پیش ہونے کی ہدایت کر دی۔

جسٹس مشیر عالم اور جسٹس قاضی امین پر مشتمل دو رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی۔ درخواست گزار کے وکیل نے موقف اپنایا کہ ضلع چکوال اور جہلم میں نجی کالجز کی جانب کیڈٹ لفظ کا استعمال کرکے لوگوں کو دھوکہ دیا جارہا ہے۔ 

درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ کیڈٹ لفظ کے استعمال سے فوج کی ساکھ خراب ہو رہی ہے۔ کیڈٹ لفظ کے استعمال سے والدین یہ سمجھتے ہیں کہ بچہ امتحان پاس کرکے فوجی بن جائے گا۔ نجی تعلیمی ادارے فوجی وردی پہنا کر طلبا کو فوجی تربیت دیتے ہیں۔ لوگوں سے 80 ہزار روپے ماہانہ فیس وصول کی جاتی ہے۔

جسٹس مشیر عالم نے ریمارکس دیے کہ کیا ایسے قوانین موجود ہیں جو کیڈٹ لفظ کے استعمال پر پابندی لگاتے ہوں؟ آئین میں کچھ ایسے الفاظ ہیں جن کے استعمال پر پابندی ہے۔ انٹیلیکچوئل پراپرٹی رائٹس کے قوانین اس حوالے سے واضع ہیں کہ کس کا نام رکھا جاسکتا ہے یا نہیں۔ قوانین کے مطابق کیا کوئی کسی کا نام استعمال کرسکتا ہے؟ ایک ہائوسنگ سوسائٹی کے نام سے متعلق ہائیکورٹ فیصلہ دے چکی ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ درخواست گزار ہماری قانونی معاونت کرے۔

جسٹس قاضی امین نے کہا کہ آئین کے مطابق نجی آرمی نہیں رکھی جاسکتی۔ ہمارے ملک میں آئین کے مطابق فوجی یونیفارم نجی سطح پر استعمال کرنے پر پابندی ہے۔

عدالت نے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کر دی۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment