کراچی: شدید بارشوں سے اربن فلڈنگ کا خطرہ بڑھ گیا

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں پیر کو ایک مرتبہ پھر مون سون کی بارشوں کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے جس کے باعث دو افراد جاں بحق ہو گئے ہیں۔

مون سون بارشوں کا تازہ سلسلہ پیر 24 اگست سے شروع ہوا اور یہ کل جمعرات 27 اگست تک جاری رہے گا ۔ اس دوران محکمہ موسمیات کی جانب سے اربن فلڈنگ کی وارننگ بھی جاری کر دی گئی ہے۔

تاہم کراچی کے کچھ علاقے ایسے بھی ہیں جہاں پر ابھی تک 21 اگست کو ہونے والی بارشوں کا پانی ہی نہیں نکالا جا سکا ہے جس کی وجہ سے شہری تشویش میں مبتلا ہیں کہ حالیہ بارشیں ان کے لیے مزید پریشانیاں نہ لے کر آئیں۔

کراچی انتظامیہ کے مطابق ان بارشوں سے کراچی کے کئی علاقے جن میں تیسر ٹاؤن، لیاری ایکسپریس وے ریسیٹلمنٹ سوسائٹی، روزی گوٹھ، خدا کی بستی، عرض محمد گوٹھ اور ان علاقوں سے ملحق کئی علاقے اربن فلڈنگ کا شکار ہوئے تھے جہاں پر ابھی بھی زندگی مکمل طور پر بحال نہیں ہوئی ہے۔

محکمہ موسمیات کراچی کے ڈائریکٹر سردار سرفراز کے مطابق یہ صورتحال شدید بارشوں کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ کراچی میں اگست کے ماہ میں 30 سال کے دوران اوسط بارش 61 ملی میٹر تھی جبکہ اس سال اگست میں بارشوں کے گذشتہ تین سلسلوں کے دوران 61 ملی میٹر سے زائد بارشیں ہوچکی ہیں۔

ڈائریکٹر سردار سرفراز کے مطابق کراچی میں بارشوں کا چوتھا سلسلہ 24 اگست کی شام سے شروع ہوچکا ہے اور یہ تین چار روز جاری رہنے کا امکان ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں خدشہ ہے کہ بارشوں کا نیا سلسلہ گذشتہ تین بارشوں کے سلسلے سے کہیں زیادہ شدید ہوسکتا ہے، جس کی وجہ سے اربن فلڈنگ جیسی صورتحال پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔ ان کے مطابق اس میں شاید پورا کراچی شہر متاثر ہونے کا خطرہ ہے مگر نشیبی علاقے اولڈ سٹی ایریاز، صدر وغیرہ کے علاقے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔

 

 

متعلقہ خبریں

Leave a Comment