شمالی افغانستان میں خودکش دھماکہ، تین افراد جاں بحق

شمالی افغانستان میں خودکش حملے میں کم از کم تین افراد جاں بحق ہو گئے ہیں۔

افغان فوج کے ترجمان حنیف رضائی نے بتایا کہ خودکش بمبار نے شمالی صوبے بلخ میں افغان فوج کے ایک اڈے کے قریب خودکش دھماکہ کیا گیا ہے۔خود کش دھماکے میں حملہ آور نے ٹرک کا استعمال کیا۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ٹویٹر پر شمالی صوبے بلخ میں ہونے والے خودکش حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملہ ایک وائرل ویڈیو کا بدلہ تھا جس میں افغان فوجیوں کو طالبان جنگجوؤں کی لاشوں کی بے حرمتی کرتے دکھایا گیا ہے۔

وزارت دفاع نے اس ویڈیو کی تحقیقات کا آغاز کیا ہے  جو اس ماہ کے شروع میں منظر عام پر آئی تھی۔

رضاعی نے بتایا کہ منگل کے روز ہونے والے اس حملے میں دو عام شہریایک افغان فوج کا کمانڈو ہلاک اور 40 سے زائد زخمی ہوگئے ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اس دھماکے سے متعدد قریبی مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔ افغان فوجی دھماکے سے زخمی ہونے والے افراد کو ابتدائی طبی امداد دے رہے ہیں۔

افغان وزارت دفاع نےخود کش حملے کی تصدیق کی ہے۔

یہ حملہ اس وقت سامنے آیا جب پاکستانی حکومت نے منگل کے روز اسلام آباد میں افغان طالبان کے اہم مذاکرات کاروں کے ساتھ بات چیت کی۔ جس میں وزیر خارجہ نے طالبان وفد سے مطالبہ کیا کہ وہ جلد ہی افغانستان میں امن مذاکرات کو "شروع” کریں۔پاکستان نے مزید کہا ہے کہ مذاکرات ہی افغانستان کے امن اور ترقی میں آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے۔

افغان صدر اشرف غنی کے ترجمان صدیق صدیقی نے کہا کہ کابل توقع کرتا ہے کہ پاکستان ھمارے ملک میں امن کے قیام میں تعاون کرے گا۔

صدیقی نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ افغانستان میں جب امن اور استحکام کی بات کی جاتی ہے تو پاکستان اپنے وعدوں کی تکمیل میں ناکام رہا ہے، ہم توقع کرتے ہیں کہ پاکستانی حکومت عملی اقدامات کرے گی اور خطے میں استحکام لانے میں افغان حکومت اور عالمی برادری کے ساتھ تعاون کرے گی۔

افغان طالبان اور افغان حکومت نے عندیہ دیا تھا کہ وہ عید الاضحی کے فورا بعد امن مذاکرات شروع کرنے کے لئے تیار ہیں، لیکن یہ عمل قیدیوں کے تبادلے میں پیش رفت نہ ہونے کی وجہ سے تعطلی کا شکار ہو گیا۔ 

افغان صدر غنی نے فوجی اڈے پر حملے کی مذمت کی اور طالبان سے بات چیت شروع کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے طالبان کے جنگجوؤں سے اپیل کی ہے کہ وہ افغانوں کا خون بہانا بند کر دیں اور افغانستان کی ترقی کے لیے کردار ادا کریں۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment