افغانستان میں پائیدار امن صرف بات چیت سے ہی ممکن ہے،وزیر خارجہ

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے دفتر خارجہ میں طالبان کے دوحہ میں قائم سیاسی دفتر کے ڈائریکٹر ملا عبدالغنی برادر کی سربراہی میں افغان طالبان کے وفد سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ھم افغانستان میں مسائل کی موجودگی کے باوجود مستقبل قریب میں اہم پیشرفت کے لیے پرامید ہیں اور ھمیں امید ہے کہ کوئی صحیح راستہ نکل آئے گا۔
ملا برادر کے علاوہ طالبان کے وفد میں خیر اللہ خیرخواہ، نبی عمری، شہاب الدین دلاور، عبد لطیف منصور اور قاری دین محمد شامل تھے۔
طالبان کے ساتھ ملاقات میں وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کے ساتھ آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید ، سکریٹری خارجہ سہیل محمود ، وزیر اعظم کے خصوصی نمائندہ برائے افغانستان کے سفیر محمد صادق اور دیگر اعلی عہدیداروں بھی موجود تھے۔
یہ اسلام آباد کا طالبان کا دوسرا دورہ ہے۔ ملا برادر کی زیرقیادت ایک وفد گذشتہ سال اکتوبر میں پاکستان آیا تھا۔
دفتر خارجہ میں ہونے والی بات چیت میں خاص طور پر افغان امن عمل میں حالیہ پیشرفت اور انٹرا افغان مذاکرات کا انعقاد زیر بحث رہا۔ ملاقات کے دوران افغان مہاجرین سے متعلق دیگر امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
افغان حکومت کی جانب سے بقیہ 320 طالبان قیدیوں کی رہائی میں تاخیری کی وجہ سے انٹرا افغان مذاکرات کو وقتی طور پر روک دیا گیا ہے۔ اس برس فروری میں امریکہ اور طالبان کے مابین طے پانے والے معاہدے کے تحت باغیوں کے زیر انتظام اپنے ایک ہزار افغان سکیورٹی اہلکاروں کے بدلے میں 5000 طالبان جنگجوؤں کو رہا کرنا تھا تاہم جرگہ کی منظوری اور صدارتی فرمان کے باوجود 320 اہم طالبان قیدیوں کی رہائی کھٹائی میں پڑ گئی ہے جس میں افغان حکومت لیت و لال سے کام لے رہی ہے۔
دفترخارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وزیر خارجہ قریشی نے انٹرا افغان مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کے لئے امریکہ طالبان معاہدے کو مکمل طور پر نافذ کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ وہ بظاہر کابل کی طرف اشارہ کر رہےتھے کہ وہ معاہدے کی مکمل پاسداری نہیں کر رہا۔
طالبان وفد نے وزیر خارجہ سے طالبان اور امریکہ کے مابین طے پانے والے معاہدے پر عمل درآمد کی تازہ ترین پیشرفت اور انٹرا افغان بات چیت کے آغاز میں رکاوٹوں کے بارے میں اپنے خیالات شیئر کیے۔
شاہ محمود قریشی نے صحافیوں کو بتایا طالبان افغانستان میں امن کے لیے بات چیت کے ذریعے معاملات کو حل کرنے کے لئے تیار اور متفق ہیں۔
افغانستان میں تشدد کی کارروائیاں بدستور جاری ہیں۔ گزشتہ روز شمالی صوبہ بلخ کے ایک فوجی اڈے پر خودکش حملے میں درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوگئے۔ اس حملے کی ذمہ داری طالبان نے قبول کی تھی۔ اس سے قبل اتوار کے روز بھی ، صوبہ غزنی کے ضلع دہ یاک میں بھی طالبان کے ایک حملے میں متعدد سیکیورٹی اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔
وزیر خارجہ نے کہا ک پاکستان کا ھمیشہ سے مؤقف رہا ہے کہ افغان مسئلے کا پائیدار اور مستقل حل صرف بات چیت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ 29 فروری کو دوحہ میں طالبان اور امریکہ کے درمیان معاہدے پر دستخط کرنے میں پاکستان نھ مخلصانہ کوششیں کی تھیں۔
ملاقات کے دوران شاہ محمود قریشی نے طالبان پر زور دیا کہ وہ افغانستان میں قیام امن کے لئے امریکہ کے ساتھ معاہدے سے بھر پور فائدہ اٹھائیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کو یقینی بنانے کے لئے جلد از جلد انٹرا افغان مذاکرات کا خواہاں ہے۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان ، افغان امن عمل سمیت خطے میں پائیدار امن و استحکام کو یقینی بنانے کے لئے اپنی مصالحتی کوششوں کو جاری رکھے گا۔
وزیر خارجہ نے طالبان وفد کو افغان امن عمل کو سبوتاژ کرنے کے امکانی خطرات سے بھی خبردار کیا۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق پاکستان نے حال ہی میں افغان طالبان کے خلاف بڑے پیمانے پر مالی پابندیاں بھی لگائی گئی ہیں، پابندیاں لگانے کی وجہ طالبان پر دباؤ ڈالنے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے تاکہ وہ انٹرا افغان مذاکرات کا جلد آغاز کریں۔
طالبان کے سیاسی ترجمان سہیل شاہین نے ہفتے کے روز کہا تھا کہ طالبان پر مالی پابندیاں عائد ہیں لیکن سفری پابندی امن مذاکرات کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment